نواز شریف کیخلاف نئی دستاویزات ریکارڈ پر لانے کا فیصلہ

نواز شریف کیخلاف نئی دستاویزات ریکارڈ پر لانے کا فیصلہ

November 09, 2018 - 14:05
Posted in:

احتساب عدالت نےفلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے خلاف نئی دستاویزات ریکارڈ پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے اس ضمن میں احتساب عدالت میں درخواست جمع کرائی ہے۔دورانِ سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کر دیا اور نیب کی درخواست منظور کر تے ہوئے اسے نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی۔سماعت کےدوران نواز شریف کے وکلاء اور نیب پراسیکیوٹر کے مابین تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ سوال نامہ نیب کے پاس موجود ہے، یہ وہ پراسیکیوٹر ہیں جو میڈیا پر بات کرتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹرسردار مظفر عباسی نے جواب دیا کہ آپ ذاتی حملے کررہے ہیں، ہم قانون پرعمل کریں گے۔خواجہ حارث نے نیب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یوکے سینٹرل اتھارٹی کے ساتھ خط و کتابت نیب کے ظاہر شاہ نے کی تھی، ظاہر شاہ عدالت میں گواہ کے طور پر پیش ہو چکے ہیں، ان کی گواہی کے ساتھ یہ دستاویزات کیوں پیش نہ کی گئیں؟ اگر یہ دستاویزات پیش کرتے ہیں تو ساتھ متعلقہ گواہ کو بھی پیش کریں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 8ماہ کی تاخیر سے کیوں یہ دستاویزات پیش کی جا رہی ہیں؟ ان دستاویزات سےفلیگ شپ کے تفتیشی افسرکا کیا تعلق ہے؟ یہ نیب نے نہیں بتایا، عدالت دستاویزات کے ساتھ تفتیشی افسر کا تعلق خود فرض نہیں کر سکتی۔نیب پراسیکیوٹرسردار مظفر عباسی نے بتایا کہ ہم نے ضمنی ریفرنس میں لکھا ہےخطوط کا جواب آنےپردستاویزات دیں گے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}