نوازشریف کی اپیل دائر، سماعت کل سے ہوگی

نوازشریف کی اپیل دائر، سماعت کل سے ہوگی

July 16, 2018 - 22:05
Posted in:

احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی درخواستوں پر کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی ۔ایون فیلڈ ریفرنس میںنوازشریف ،مریم اور کیپٹن صفدر نے احتساب عدالت کے فیصلے خلاف اپیل دائر کردی ،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ سماعت کرےگا۔اپیل میںاحتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کرنے اور ضمانت پر رہانی کی استدعا کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے انصاف کے تقاضے پورے کئے بغیر سزا سنائی، تفتیشی افسر واجد ضیاء کے بیان کی بنیاد پر سزا سنائی گئی جنہیں حقائق کا علم ہی نہیں تھا، واجد ضیا ء کی گواہی سنی سنائی باتوں پر مبنی تھی۔نوازشریف فیملی کی طرف سے 6 جولائی کو احتساب عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کے خلاف اپیل10 روزہ قانونی مدت کے آخری روز دائر کی گئی ۔ وکیل خواجہ حارث کی طرف سے دائر کی گئی اپیل میں کہا گیا ہےایم ایل اے پر جواب نہ آنے کے باوجود الزام لگانا بدنیتی ہے، واجد ضیاء کا بیان ناقابل قبول اور غیر متعلقہ شہادت ہے، وہ ایسی دستاویز نہیں پیش کرسکتا جس کاوہ گواہ نہ ہو۔اپیل میں یہ بھی کہا گیا کہ اپارٹمنٹس کی اصل قیمت جانے بغیر انہیں آمدن سے زائد اثاثہ قرار دیا گیا، احتساب عدالت نے محض آمدن اور اثاثوں کے چارٹ پر فیصلہ سنایا، چارٹ تیار کرنے والے کو بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ استغاثہ کے گواہ واجد ضیا نے تسلیم کیا کہ بچوں کا نواز شریف کے زیر کفالت ہونے کا ثبوت نہیں ملا،اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ بچوں کو کاروبار کے لئےپیسہ نوازشریف نے دیا ، نواز شریف کےایون فیلڈ اپارٹمنٹس کامالک ہونے کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ رابرٹ ریڈلے نے تسلیم کیا کہ وہ کمپیوٹر گیگ نہیں اور اس نے کیلبری فونٹ ڈائون لوڈ کیا، رابرٹ ریڈلے کے اس موقف کو فیصلے میں نظر انداز کیا گیا۔ اپیل میں کہا گیا کہ استغاثہ موزیک فونسیکا کے خطوط کے متن کی تصدیق میں ناکام رہا، بغیر تصدیق کے مریم نواز اور کیپٹن صفدر پر معاونت کا الزام لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ استغاثہ اپیل کنندگان کے معلوم ذرائع ظاہر کرنے میں بھی ناکام رہا، نواز شریف، مریم نواز اور ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی، فیصلے میں نواز شریف کو کرپشن کے الزامات سے بری کیا گیا اور مجرم قراردیکر سزائیں بھی سنادیں ۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ تضادات سے بھرا ہوا ہے،اسےکالعدم قرار دیا جائے۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}