نقاب اور برقعے کا مذاق اڑانے پر بورس جانسن تنقید کی زد میں

نقاب اور برقعے کا مذاق اڑانے پر بورس جانسن تنقید کی زد میں

August 10, 2018 - 00:19
Posted in:

چند روز قبل برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف میں برقعے کے بارے میں متنازع رائے پر مبنی کالم لکھنے کے بعد برطانیہ کے سابق سیکریٹری خارجہ اور کنزرویٹو پارٹی کے اہم رہنما بورس جانسن پر ان کی پارٹی کی جانب سے دباؤ شدید بڑھ گیا ہے اور ان کی اپنی جماعت کے رہنماؤں نے ان پر تنقید کی ہے جن میں وزیر اعظم ٹریزا مے بھی شامل ہیں۔ بورس جانسن نے پانچ اگست کو لکھے گئے اپنے کالم میں ڈنمارک میں نافذ کیے گئے اس نئے قانون کا ذکر کیا تھا جس کے تحت ملک میں چہرہ چھپانے یا نقاب پہننے پر پابند عائد کر دی گئی تھی۔ انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ وہ ڈنمارک کے نئے قانون کے حامی نہیں ہیں لیکن انھوں نے برقع پہننے والی مسلمان خواتین کا مذاق اڑاتے ہوئے انھیں 'بینک ڈاکو' اور 'ڈاک خانہ' قرار دیا تھا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے مزید یہ بھی لکھا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کے دوران ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ نقاب ہٹا کر بات کریں۔اس بارے میں مزید پڑھیےڈنمارک میں پورے چہرے کے نقاب پر پابندیڈنمارک میں نقاب پر پابندی کے تحت پہلی خاتون کو سزا’یورپی کمپنیاں دفاتر میں حجاب پر پابندی لگا سکتی ہیں‘بورس جانسن کے اس کالم پر برطانوی وزیر اعظم نے ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے جماعت کے چئیرمین برانڈن لوئیس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس کالم پر بورس جانسن کو معافی مانگنی ہوگی کیونکہ اس سے مسلمان برادری کی دل آزاری ہوئی ہے۔

گذشتہ سال آسٹریا میں متعارف کرائے جانے والے قانون کے مطابق عوامی جگہوں پر نقاب پہننے پر پابندی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے پر 150 پاؤنڈ کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔ ملک کی پولیس نے اس قانون پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان لوگوں پر بھی استعمال ہو رہا ہے جو گرد آلود دھند سے بچاؤ کے لیے ماسکس پہنتے ہیں یا جو تفریحی مقصد کے لیے جانوروں کا بھیس ڈھالتے ہیں۔بیلجیئم:بیلجیئم میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر مکمل طور سے پابندی ہے۔ اس قانون کے خلاف دو مسلمان عورتوں نے مقدمہ دائر کیا تھا لیکن یورپی عدات برائے انسانی حقوق نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے کسی انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی۔ بلغاریہ:بلغاریہ میں نقاب اور برقعے کے خلاف قوانین یورپ بھر میں سخت ترین ہیں جس کے تحت مکمل یا ادھورے نقاب پر پابندی ہے اور وہ عوامی مقامات، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور تفریحی مقامات کی حدود میں لاگو ہوتا ہے۔خلاف ورزی کرنے کی صورت میں 668 تک جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور ان عورتوں کی سرکاری سہولیات بھی منہا کر لی جاتی ہیں۔ نیدرلینڈز: اس سال نیدرلینڈز میں بھی عوامی مقامات، ہسپتال، سکول اور پبلک ٹرانسپورٹ میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ سڑک پر چلنے والوں کو نقاب پہننے کی اجازت ہے لیکن پولیس کے پاس یہ حق ہے کہ وہ روک کر اس شخص کی شناخت کے لیے پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}