نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ تشویش ناک ہے،طبی ماہرین

نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ تشویش ناک ہے،طبی ماہرین

October 05, 2017 - 23:52
Posted in:

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں ڈپریشن، دماغی اور نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ معاشرتی و معاشی مسائل، غیر محفوظ ہونا، سیاسی عدم استحکام، بے روزگاری، روزگار کے دوران کام کا دباؤ، خوف، امتیازی سلوک اور معاشرتی تبدیلی وغیرہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین صحت نے عالمی دماغی صحت کے دن کے موقع پر کیا۔ صدر پاکستان سائیکاٹری سوسائٹی اور جناح اسپتال میں سربراہ ڈپارٹمنٹ نفسیات ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ ڈپریشن عالمی مسئلہ ہے جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن کی وجہ سے عالمی بیماریوں کے بوجھ اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جس سے پوری دنیا میں ہر معاشرے کے افراد متاثر ہیں۔ دنیا بھر میں قریباً 350 ملین افراد دماغی اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں۔ ہر سال قریباً 10 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ روزانہ قریباً 3 ہزار لوگ خود کشی کرتے ہیں۔ ڈپریشن سب سے زیادہ خواتین کو متاثر کر رہا ہے۔

google_ad_client = "ca-pub-6828776300899524";
google_ad_slot = "0592552376";
google_ad_width = 336;
google_ad_height = 280;

ڈاؤ یونی ورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سربراہ سائیکاٹری ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر رضا الرحمن نے کہا کہ ڈپریشن ایک بیماری ہے جو پورے جسم، جذبات اور خیالات کو متاثر کرتی ہے، یہ متاثرہ فرد کے سونے، کھانے پینے، اپنے بارے میں خیالات اور دیگر لوگوں کے بارے میں سوچنے کو متاثر کرتی ہے۔ آغا خان اسپتال اور ایس آئی یو ٹی میں ماہر امراض نفسیات ڈاکٹر نعیم صدیقی نے کہا کہ ڈپریشن ایک عام بیماری ہے جس کی علامات میں جذبات، کام میں عدم دل چسپی، مایوسی، کم زوری، غلطی کے احساسات، احساس کم تری، نیند کا متاثر ہونا، بھوک نہ لگنا اور دماغی طور پر بیدار نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}