نازنین زغاری کو’ سفارتی تحفظ‘ دینے پر غور

نازنین زغاری کو’ سفارتی تحفظ‘ دینے پر غور

November 13, 2017 - 19:55
Posted in:

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا ہے کہ ایرانی جیل میں قید برطانوی خاتون نازنین زغاری ریڈکلف کو سفارتی تحفظ فراہم کرنا ان امکانات میں سے ایک ہے جن پر ان کے رہائی کے لیے غور ہو رہا ہے۔ نازنین زغاری ریڈکلف کو پچھلے سال اپریل میں اس وقت تہران ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جب اپنی دو سالہ بیٹی کے ہمراہ اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں منانے کے بعد برطانیہ آ رہی تھیں۔ مسز نازین زغاری ریٹکلف کو ایران میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر ایران نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ ان پر الزام کیا ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ نازنین پر الزام ہے کہ انھوں نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی تھی۔نازنین ریڈکلف کی صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہہ دیا کہ وہ ایران میں صحافیوں کو تربیت دے رہی تھیں۔ نازنین ریٹکلف کے رشتہ داروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وزیر خارجہ بورس جانسن کے بیان کو بنیاد بنا کر ان کی قید میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ نازنین ریٹکلف کے خاندان کا موقف ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لیے ایران گئی تھیں۔یہ بھی پڑھیےبرطانوی وزیر خارجہ کا بیان ایرانی قیدی کو مہنگا پڑگیاایران میں بی بی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد

وزیر خارجہ بورس جانسن کے بیان کے بعد ان پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا کہ اگر ان کے بیان کی وجہ سے نازنین زغاری ریٹکلف کی قید میں اضافہ ہو گیا تو وزیر خارجہ کے لیے اپنے عہدے پر برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔لندن کے میئر صادق خان نے بورس جانسن سے ان کے اس بیان کے بعد مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔تاہم ماحولیات کے وزیر مائیکل گوو وزیر خارجہ یورس جانسن کا دفاع کر رہے ہیں اور ان کے مستعفیٰ کے مطالبے کی مخالفت کی ہے۔ نازنین نے اپنے اوپر لگے تمام الزام کو مسترد کیا تھا تاہم وہ اپریل 2017 میں اپنی آخری اپیل میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔وہ تھامس روئٹرز فاؤنڈیشن اور بی بی سی میڈیا ایکشن کے لیے کام کرتی تھیں اور ان کہنا تھا کہ ان کا 2016 کا دورہ ایران اس لیے تھا کہ ان کی بیٹی اپنے نانا نانی سے مل سکے۔اس سے قبل وزیر خارجہ نے خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو فون کیا اور انھیں بتا دیا ہے کہ ان کے الفاظ یہ 'جواز فراہم نہیں کرتے' کہ مسز نازنین ریٹکلف کی سزا میں اضافہ کیا جائے۔ مسٹر جانسن کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے اس سال کے آخر تک ایران کا دورہ کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}