میانمار: روہنگیا بحران کا ذرائع ابلاغ میں کوریج، سازش کے شبہےکا اظہار

میانمار: روہنگیا بحران کا ذرائع ابلاغ میں کوریج، سازش کے شبہےکا اظہار

September 23, 2017 - 20:19
Posted in:

اِس میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ 'بی بی سی' میں مسلمانوں کا بہت زیادہ اثر ہے اور یہ کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) اپنی مرضی کی کہانیاں گھڑنے کے لیے غیر ملکی صحافیوں کو رقوم ادا کر رہی ہے

واشنگٹن — 
متعدد لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ 'سازش کےنظرئے' کے تحت میانمار میں روہنگیا بحران کے ذرائع ابلاغ کے کوریج میں تعصب کی بو آتی ہے، جو اِس بودھ اکثریتی ملک کے خلاف برتا جا رہا ہے۔
اِس میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ 'بی بی سی' میں مسلمانوں کا بہت زیادہ اثر ہے اور یہ کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) اپنی مرضی کی کہانیاں گھڑنے کے لیے غیر ملکی صحافیوں کو رقوم ادا کر رہی ہے۔
یہ شکایتیں وزنی تشویش پر مبنی لگتی ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ میڈیا 400000 سے زائد روہنگیا افراد پر ضرورت سے زیادہ دھیان مرکوز کیے ہوئے ہے، جو میانمار میں تشدد کی کارروائی سے بچ نکلے ہیں، اور ماورائے عدالت ہلاکتوں اور قتل عام کے الزامات کی جو داستانیں وہ اپنے ساتھ لائے ہیں وہ بیان کی جارہی ہیں۔
اُن کی حالتِ زار کی باز گشت دنیا کی بڑی طاقتوں تک پہنچی ہے۔ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے بدھ کو اِس معاملے کو ''رونما ہوتا ہوا عظیم سانحہ'' قرار دیا ہے۔
برعکس اس کے، صحافیوں سیمت متعدد لوگ یہ استفسار کرتے ہیں، پھر راہنما جو یہ روداد پڑھتے ہیں، کہ 'اراکان روہنگیا سالویشن آرمی' کےحملوں کو یا تو نظرانداز کیا جارہا ہے یا جان بوجھ کر اِن کا تذکرہ نہیں کیا جاتا، جن کی وجہ سے ہی یہ فوجی کارروائی شروع ہوئی، اور پھر لاکھوں غیر مسلمان سولین آبادی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئی، اور بودھوں، ہندوئوں اور دیگر نسلی اقلیتیں بھی اس تنازع میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔
آنگ سان سوچی کی تقریر
منگل کے دِن اس بحران پر اپنے پہلے خطاب میں، میانمار کی فی الواقع رانما، آنگ سان سوچی نے اِنہی خیالات کا اظہار کیا، جسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔
اُنھوں نے کہا کہ ''جو لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے اُن کی تعداد کافی ہے۔ نہ صرف مسلمان اور (بودھ) رخائن بلکہ چھوٹے اقلیتی گروپ جیسا کہ دینگ نت، مارئرو، تھیت، میامنگی اور ہندو بھی متاثر ہوئے، جن سے متعلق دنیا بالکل ہی آگاہ نہیں''۔

VOA بشکریہa {display:none;}