مکہ مسجد دھماکہ: سوامی اسیم آنند سمیت پانچوں ملزمان بری

مکہ مسجد دھماکہ: سوامی اسیم آنند سمیت پانچوں ملزمان بری

April 16, 2018 - 14:36
Posted in:

انڈیا میں حیدرآباد دکن کی ایک خصوصی عدالت نے 2007 کے مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں سوامی اسیم آنند سمیت پانچوں ہندو ملزمان کو بری کردیا ہے۔ ان لوگوں پر مسجد میں بم دھماکہ کرنے کا الزام تھا جس میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تفتیش کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے فرد جرم میں کہا تھا کہ یہ لوگ ایک ہندو شدت پسند تنظیم سے وابستہ تھے۔تاہم حیدرآباد کی خصوصی عدالت نے کہا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے جاسکے۔ ان میں سب سے اہم ملزم سوامی اسیم آنند تھے جنہوں نے تفتیش کے دوران اقبال جرم کیا تھا لیکن بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔ ایرانی صدر حیدر آباد کی مکہ مسجد کیوں گئے؟ اجمیر دھماکہ کیس: سوامی اسیم آنند سمیت چار ملزمان بریمسلم مخالف دھماکے: ہندو سوامی گرفتارمکہ مسجد میں دھماکے کے فوراً بعد پولیس کی فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق اس کیس میں کرائم برانچ نے پہلے مسلمان نوجوانوں کو ملزم بنایا تھا لیکن سی بی آئی کی تفتیش کے بعد ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے اور ابھینو بھارت نامی ہندو شدت پسند تنظیم سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اس کیس میں دو ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا جبکہ ایک ملزم سنیل جوشی کو پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا تھا۔سوامی اسیم آنند کو مہاراشٹر کے مالےگاؤں، راجستھان کے اجمیر شریف اور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر حملے سے متعلق مقدمات میں بھی ملزم بنایا گیا تھا لیکن اجمیر شریف بم دھماکہ کیس میں بھی انھیں بری کر دیا گیا تھا۔سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں وہ اب بھی ملزم ہیں لیکن 2015 میں ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی تھی۔ ابھینو بھارت سے وابستہ ان لوگوں کے خلاف یہ کیس اس لیے اہم تھے کیونکہ تفتیشی ایجنسیوں نے پہلی مرتبہ یہ کہا تھا کہ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ہندو بھی ملوث ہیں۔ یہ تفتیش کانگریس کے دور اقتدار میں ہوئی تھی اور اس وقت ان حملوں کو ’سیفران ٹیرر‘ یا ہندو شدت پسندوں کی دہشتگردی سے منسوب کیا تھا۔اس پورے کیس میں سوامی اسیم آنند اور ابھینو بھارت کے کرنل پروہت مرکزی کردار بن کر ابھرے تھے۔ کرنل پروہت اس وقت حاضر سروس فوجی افسر تھے اور وہ بھی ضمانت پر رہا ہیں۔

ملزمان کی رہائی کے بعد کانگریس کو اس الزام کا سامنا ہے کہ اس کے دور اقتدار میں ملزمان کو پھنسایا گیا تھا۔ تاہم ایک حلقے کا الزام یہ ہے کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ملزمان کے خلاف مقدمات کو کمزور کیا گیا۔عدالت نے ملزمان کو کس بنیاد پر بری کیا یہ تو تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا لیکن اب اس سوال پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ ’ہندو دہشتگردی‘ کے دعوؤں میں کتنی صداقت ہے اور ملزمان اگر بے گناہ تھے تو مکہ مسجد میں دھماکہ کس نے کیا تھا؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}