موسیقی کے ذریعے ’بدنامی کا داغ بھی مٹ جائے گا‘

موسیقی کے ذریعے ’بدنامی کا داغ بھی مٹ جائے گا‘

August 09, 2018 - 08:31
Posted in:

سنگیت کیسے قیدیوں کی زندگی بدل رہا ہے۔کبھی ڈکیتی کے الزام میں تو کبھی نشہ خوری کے، اکرم نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ دلی کی تہاڑ جیل میں ہی گزارا ہے۔وہ اسیری کا زمانہ یاد کرتے ہیں تو اب بھی آنکھوں میں درد صاف نظر آتا ہے۔’کتنی دردناک اور خوفناک زندگی جی رہے تھے ہم۔۔۔ زندگی اتنی حسین اور خوبصورت ہے لیکن ہمیں اس کی بالکل قدر ہی نہیں تھی۔ اس دور کا ذکر کرتے ہوئے بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘لیکن پھر جیل میں ہی ان کی زندگی میں موسیقی آئی اور انھیں ’جینے کی نئی راہ‘ مل گئی۔’جیل میں موسیقی کا ایک مقابلہ کرایا گیا، جس میں حصہ لینے ہم بھی پہنچے اور ہمیں سلیکٹ کر لیا گیا۔ اس طرح سنگیت میری زندگی میں آیا۔ جیل میں ہم یہی سوچتے تھے کہ باہر نکلیں گے تو کوئی بڑا ہاتھ ماریں گے۔ اس طرح کی سوچ تھی کہ باہر آکر بھی جرم ہی کرنا ہے اور اس سوچ میں تبدیلی میوزک سے ہی آئی ہے۔ ورنہ مجھے نہیں لگتا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس چیز سے دور کرسکتی تھی۔‘یہ بھی پڑھیے'سنگیت کا نشہ سب نشوں پر بھاری'کشمیر کی مزاحمتی موسیقی'رباب دراصل روح کا باب ہے'اس تبدیلی میں ’ریفارم بینڈ‘ کا کلیدی کردار ہے۔ ریفارم بینڈ ایک کلچرل سوسائٹی کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو ’تہاڑ آئیڈل‘ کے نام سے موسیقی کا ایک مقابلہ کراتی ہے۔ قیدیوں کو سنگیت سکھایا بھی جاتا ہے اور رہائی کے بعد انھیں اس بینڈ میں کام کرنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔بینڈ میں پیشہ ور سنگیت کار بھی ہیں اور سابق قیدی بھی، کچھ نے سزائیں کاٹیں اور کچھ بری ہوگئے۔

’مجھے چار سال کی قید ہوئی تھی، میں نے تین سال جیل میں گزارے اور وہیں میوزک میری زندگی میں آیا۔۔۔ اب میں لڑائی جھگڑے سے دور رہتا ہوں اور موسیقی کی دنیا میں ہی اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔‘ساجد ریپ کے کیس میں جیل گئے تھے، بعد میں الزامات غلط ثابت ہوئے۔ وہ اس بینڈ کے روح رواں ہیں۔’جیسے جینے کے لیے سانس ضروری ہے، ویسے ہی میرے جینے کے لیے میوزک ضروری ہے۔ اپنے آپ میں کھو جاتا ہوں، دنیا کی پرواہ ہی نہیں رہتی۔ عدالت سے تو میں بری ہوگیا، اب لگتا ہے کہ اس لائن سے بدنامی کا داغ بھی مٹ جائے گا۔‘یہ میوزک تھیراپی ہے، اثر کرنے میں ذرا وقت لیتی ہے لیکن پھر اس کا سریلا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}