ممتاز گلوکاروں نے کلامِ اقبال ہمیشہ اعزاز سمجھ کر گایا

ممتاز گلوکاروں نے کلامِ اقبال ہمیشہ اعزاز سمجھ کر گایا

November 09, 2018 - 09:05
Posted in:

شاعر ِمشرق علامہ اقبال کی شاعری ہر عہد کے لیے ہے، دلوں میں ولولہ پیدا کرنے والا کلام انسان کو تخیل کی بلندیوں پر لے جاتا ہے، ملک کے ممتاز گلوکاروں نے کلامِ اقبال کو گانا ہمیشہ ہی اپنے لیے اعزاز سمجھا۔ مومن کی شان بیاں کرنی ہو،یا ایک پکے اور سچے مسلمان کی خوبیاں، اقبال سے بہتر انداز شاید کسی کا نہیں، 1965ءاور 1971ءکی جنگوں میں اقبال کے کلام نے اہل وطن کا لہو گرمائے رکھا۔ملکہ ترنم نورجہاں جس طرح ’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن‘‘ کی ادائیگی کی ہے اس نے اس کلام کو ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر عام کر دیا۔استادنصرت فتح علی خان کی آواز میں شکوہ، جوابِ شکوہ کی سحر آفرینی ہرسننے والےکو جکڑ لیتی ہے۔راحت فتح علی خان نےنظم ’ستاروں سے آگےجہاں اور بھی ہیں‘ گائی، جو سننے سے تعلق رکھتی ہے، شفقت امانت علی نے خودی کا سرِ نہاں خوب ڈوب کر گایا۔نئی نسل کے گلوکار شہزاد رائے بھی اقبال کا کلام گانے کا اعزاز رکھتے ہیں، انہوں نے ’’یا رب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘‘ گا کر علامہ اقبال سے عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ گلوکارہ شبنم مجید نے اقبال کی نظم ’لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی‘ کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ اقبال کی شاعری اندھیروں میں ٹمٹماتے جگنوکی طرح ہمیشہ ہمیشہ مسلمانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}