مقدمہ جس کا نتیجہ 99 برس میں بھی نہ آیا

مقدمہ جس کا نتیجہ 99 برس میں بھی نہ آیا

September 22, 2017 - 06:09
Posted in:

پاکستان میں عدالتی نظام میں پائے جانے والے سقم کی وجہ سے یہ مثل تو مشہور ہے کہ اگر دیوانی نوعیت کے مقدمے میں دادا سول عدالت میں درخواست دائر کرے تو اس کا پوتا اس درخواست کا فیصلہ سنتا ہے۔پاکستان میں ایک ایسا مقدمہ بھی سامنے آیا ہے جس میں چوتھی نسل فیصلے کے انتظار میں عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے لیکن یہ ایسا مقدمہ ہے جو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں جائیداد کی تقسیم کے بارے میں ایک ایسے مقدمے کی سماعت ہوئی جس کی مختلف عدالتوں سماعت 99برس سے جاری ہے۔ جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامے والی کے رہائشی محمد نصراللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی پڑدادی روشنائی بیگم جو اس وقت انڈین صوبے راجستھان میں رہائش پذیر تھیں، نے جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے اپنے بھائی شہاب الدین کے خلاف ایک درخواست سنہ1918 میں سول عدالت میں دائر کی تھی۔محمد نصر اللہ نے بتایا کہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے یہ درخواست راجستھان میں ہی زیر سماعت رہی اور پاکستان کے قیام کے بعد اس جائیداد کے بدلے میں جو بھارت میں رہ گئی تھی، پاکستانی حکومت کی طرف سے ضلع بہاولپور اور ضلع مظفر گڑھ کے علاقے میں زرعی اراضی کے 36 ہزار یونٹ فراہم کیے گئے جو کہ 56 مربے بنتے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں یہ قانون تھا کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کے بعد اس کی بیوہ چھوڑی ہوئی جائیداد سے مستفید تو ہو سکتی ہے لیکن اس کو نہ تو اپنے نام کرواسکتی ہے اور نہ ہی اس کو فروخت کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔نصراللہ کے مطابق شہاب الدین کی وفات کے بعد ان کی بیوہ امام سین نے پاکستان کی عدالت میں معاملہ زیر سماعت ہونے کے باوجود سنہ 1960 میں یہ تمام جائیداد اپنے نام کروالی تھی۔اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1987 تک یہ معاملہ سول جج، سینیئر سول جج، ایڈشنل سیشن جج اور سیشن جج کی عدالتوں میں زیر سماعت رہا، جس میں فیصلہ کبھی ایک کے حق میں آیا اور کبھی دوسرے کے حق میں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ پھر یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ میں چلا گیا جہاں ان درخواستوں کی سماعت ہوئی اور عدالت عالیہ کو کسی نتیجے پر پہنچنے میں 18 سال لگے گئے۔

عدالت عالیہ کے اس فیصلے سے فریقین نے اتفاق نہیں کیا اور وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں چلے گئے۔متاثرہ فریق نصراللہ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کے اس فیصلے کو دونوں فریقوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ2005 میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔عدالت عظمیٰ میں بھی اس مقدمے کی سماعت کو 12 سال ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک مقدمہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اس وقت یہ زمین شہاب الدین کے پڑ پوتے محمد فیاض کے استعمال میں ہے اور فریقین الزام لگاتے ہیں کہ اُنھوں نے اس جائیداد کا ایک بہت بڑا حصہ فروخت کر دیا ہے۔نصراللہ کے مطابق جائیداد کی تقسیم کے مقدمے میں پہلے صرف دو افراد فریق تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر فریق نے ایک سے زیادہ وکیل رکھے ہوئے ہیں اور ہر سماعت پر کسی وکیل کی مصروفیت یا کسی فریق یا اس کے کسی رشتہ دار کی موت کے بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سماعت تاخیر کا شکار رہی ہے۔جمعرات کے روز بھی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت شروع کی تو ایک فریق نے اپنے وکیل کی عدم دستیابی کی درخواست عدالت میں پیش کردی جس کی وجہ سے عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔عدالتی کارروائی کے بعد اس درخواست کی پیروی کے لیے سینکٹروں میل دور سے آئے ہوئے افراد نے سپریم کورٹ کے کار پارک میں اس مقدمے کی 99 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا اور اس امید کا اظہار کیا کہ سنچری پوری ہونے سے پہلے اس مقدمے کا فیصلہ ہو جائے گا۔اس مقدمے میں ایک درخواست گزار کے وکیل منیر پراچہ نے بتایا کہ مقدمے کی طوالت عدالت کی وجہ سے نہیں بلکہ وکیلوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر تمام فریقین کے وکیل پیشی پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں تو چند ہفتوں میں اس مقدمے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}