مصنوعی جِلد اب ہر پاکستانی کی پہنچ میں

مصنوعی جِلد اب ہر پاکستانی کی پہنچ میں

November 09, 2018 - 10:34
Posted in:

مارگریٹ حرا کی شادی کو دو سال سے کچھ زیادہ کا عرصہ ہوا تھا جب ان کے شوہر نے انھیں آگ لگا دی۔ اُن دونوں میں جہیز پر جھگڑا چل رہا تھا اور ان کے شوہر انھیں گھر والوں سے مزید اشیا منگوانے کا تقاضا کر رہے تھے۔ مارگریٹ کا جسم 50 فیصد سے زیادہ جل چکا تھا، جس میں ان کے چہرے کا آدھا حصہ بھی شامل تھا۔ ہسپتال پہنچنے پر مارگریٹ خوش قمست رہیں اور ان کی جان بچ گئی، تاہم جھلسنے کے بعد ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل چکی تھی۔مارگریٹ کے مطابق: ’جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھی۔ کچھ روز بعد جب گھر آئی تو کئی دن تک مجھے آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں پڑی۔‘ان کی زندگی کے اگلے تین سال انتہائی دشوار تھے۔ ان کے شوہر اپنے جرم کی پاداش میں جیل میں تھے۔ ایک بیٹا تھا جو اب چھ برس کا ہو چکا ہے۔ مگر مارگریٹ حرا نے صحت یاب ہو کر ہمت نہ ہاری اور اب وہ گزشتہ دو برس سے ’ڈیپیلیکس سمائل اگین‘ پراجیکٹ سے میک اپ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد وہیں ملازمت کر رہی ہیں اور اپنے بیٹے کی کفالت وہ خود کر رہی ہیں۔ مزید پڑھیےجدید ٹیکنالوجی سے لیس مگر سستے مصنوعی اعضاتتلی کے پروں جیسی نازک جِلدلیبارٹری میں دنیا کے پہلے ’مصنوعی ایمبریو‘ کی تخلیقنئی ٹانگ کے لیے بہت سارا پیار

حل کیا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا۔ اب یہ حکومت کا کام تھا کہ وہ اس سستی بیالوجیکل مصنوعی جلد کو کاروباری سطح پر تیار اور دستیاب کروائے۔اس قدر بڑے پیمانے کا کام حکومتی سطح پر ہی ممکن ہے۔ ’اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر پاکستان میں اسی سائنسی تحقیقات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔‘ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں انہیں امید تھی کہ ’نئے پاکستان میں حکومت اس جانب توجہ دے گی۔‘ان کا اور ان کے ساتھیوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ ’پاکستان میں کسی غریب کو جان بچانے کے لیے مصنوعی جلد کے حصول کے لیے بھیک نہ مانگنی پڑے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}