مسلمان کے قتل اور اس قتل کی ویڈیو بنانے کا ملزم گرفتار

مسلمان کے قتل اور اس قتل کی ویڈیو بنانے کا ملزم گرفتار

December 07, 2017 - 17:24
Posted in:

انڈیا کی شمالی ریاست راجھستان میں پولیس نے اس شخض کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے ایک شخص کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا دیا تھا۔مبینہ طور پر یہ قیل مذہبی بنیادوں پر کیا گیا اور اس کی ویڈیو بنا کر شیئر بھی کی گئی۔ ایک دوسری ویڈیو میں اس شخص کو حملہ کرتے ہوئے یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ ایسا ’مسلمانوں سے ہندوؤں کی عزت بچانے کے لیے‘ کیا ہے۔ یہ بھی پڑھیےہادیہ کا اسلام ’لو جہاد‘ کی مثال؟’آپ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے‘'مودی' لو جہاد کے چکر میں ’شادی میں دہشت گردی کا پہلو ‘ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کا تعلق ہندو مذہب سے ہے جبکہ اُس کے حملے کی زد میں آنے والا مسلمان ہے۔ریاست راجھستان کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ یہ ویڈیو شیئر نہ کریں۔ علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے پولیس کی بڑی نفری تعینات ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ حملہ کب ہوا تھا؟اس ویڈیو میں ہندو شخص شمبھو لال مسلمانوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ ’اگر آپ نے ہمارے ملک میں لو جہاد کیا تو اس کا یہ انجام ہو گا‘۔انڈیا میں ’لو جہاد‘ کی اصطلاح ہندو انتہا پسند گروہوں میں بہت مقبول ہے، جو مسلمانوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ سازش کے ذریعے ہندو خواتین کو ورغلا رہے ہیں۔سینئر پولیس اہلکار آنند شری واستو نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اس شخص نے سوشل میڈیا پر کئی ’نفرت انگیز‘ تقاریر شیئر کی ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ پولیس کی تحقیقات کے مطابق مبینہ حملہ آور اور اُس کا نشانہ بننے والا شخص ایک دوسرے کو پہلے سے نہیں جانتے تھے اور اُن کی ایک دوسرے سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔متاثرہ شخص محمد افراضل ایودھے پور شہر میں گذشتہ دس سال سے مقیم تھا۔سینئر پولیس اہلکار آنند شری واستو نے بتایا کہ ’ہماری تحقیقات کے مطابق شمبھو لال کے خاندان کے کسی بھی شخص نے کسی دوسرے مذہب میں شادی نہیں کی۔ اُس نے اشتعال انگیز بیانات پر مبنی ویڈیو جاری کی ہیں۔ کسی بھی قسم کے پرتشدد واقعات سے بچنے کے لیے ہم دونوں مذاہب کے افراد سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}