مجھے تو یہ عدالت بلاتے ہی جائیں گے: عمران خان

مجھے تو یہ عدالت بلاتے ہی جائیں گے: عمران خان

December 07, 2017 - 13:27
Posted in:

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پارلیمنٹ ہاؤس اور ریاست کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری ٹیلی ویژن پر حملوں کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت مں مزید چار روز کی توسیع کر دی ہے اور انھیں 11 دسمبر کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔اس سے پہلے ملزم عمران خان ان مقدمات کی تفتیش کے لیے تھانہ سیکریٹریٹ میں تفتیشی افسر کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا کر عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت چار مقدمات درج ہیں جن میں پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملوں کے علاوہ ایس ایس پی اسلام آباد پولیس کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ پولیس کی تحویل سے ملزمان کو چھڑانے کے مقدمات بھی درج ہیں۔یہ بھی پڑھیےعمران خان تھانے جا کر بیان ریکارڈ کروائیں: عدالتقرۃالعین بلوچ نے عمران خان کو گالی کیوں دی؟ اب پتے بازی کھیلیں گے۔۔۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے خلاف مقدمات کی سماعت کی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جب ملزم عمران خان کی عبوری ضمانت میں چار روز کی توسیع کی تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کمرہ عدالت میں تو کچھ نہ کر سکے البتہ واپس جاتے ہوئے اُنھوں نے اس کا غصہ اپنے وکیل بابر اعوان پر نکال دیا۔عمران خان نے اپنے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے تو بلاتے ہی جائیں گے میں تو سمجھا تھا کہ آج یہ آخری پیشی ہے۔‘بابر اعوان اس سے پہلے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل تھے اور حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ انھوں نے عمران خان کو اپنے طور پر یقین دلانے کی کوشش کی، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے اپنے وکیل کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی گاڑی کا دروازہ بند کر دیا اور وہاں سے بنی گالہ چلے گئے۔یاد رہے کہ عمران خان تین بار انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور کمرہ عدالت سے نکلنے کے بعد ان کی باڈی لینگوئج سے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ عدالتی پیشیوں سے پریشان ہیں۔یاد رہے کہ اسی عدالت نے عمران خان کو ان مقدمات میں اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے اور اسی عدالت نے ملزم کی پہلی ہی پیشی کے موقعے پر ان کی عبوری ضمانت منظور کرلی تھی۔عدالت میں پیشی کے موقعے پر عمران خان اپنے وکیل کے ساتھ اس وقت تک کھڑے رہے جب تک بابر اعوان نے اپنے دلائل مکمل نہیں کر لیے۔ملزم عمران خان نے متعلقہ عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اپنے حق کے لیے احتجاج کرنا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس معاملے کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں بھیج دیا جائے۔عمران خان کے وکیل نے فیض آباد دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور دھرنا منتظمین کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف مقدمات ختم کردیے گئے ہیں، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمات ختم نہیں ہوئے بلکہ ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد اپنی ضمانتیں کروا رہے ہیں۔سرکاری وکیل نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جس میں ملزم پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے علاوہ اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پولیس کے سربراہ پر حملہ کرنے کے بارے میں اکسا رہے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ عمران خان پر انسداد دہشت گردی کی دس دفعات کا اطلاق ہوتا ہے۔ان مقدمات کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین طاہرالقادری ماڈل ٹاؤن واقعے کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے تو پاکستان تحریک انصاف بھی ان کے ساتھ ہو گی۔اس سے پہلے سنہ 2014 میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے دھرنوں کے دوران بھی دونوں جماعتیں اکٹھی تھیں تاہم پاکستان عوامی تحریک نے اس دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ان دونوں جماعتوں کے سیاسی مخالفین عمران خان اور طاہرالقادری کو سیاسی کزن کہہ کر پکارتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}