متنازعہ بالی ووڈ فلم پدماوتی یکم دسمبر کو ریلیز نہیں ہو گی

متنازعہ بالی ووڈ فلم پدماوتی یکم دسمبر کو ریلیز نہیں ہو گی

November 19, 2017 - 18:24
Posted in:

فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی نے رضاکارانہ طور پر اس فلم کی نمائش اُس وقت تک روک دی ہے جب تک فلم کی نمائش کیلئے مطلوبہ تمام کلیئرنس نہ مل جائے۔

واشنگٹن — 
سنجے لیلا بھنسالی کی متنازعہ تاریخی فلم ’پدماوتی‘ کی نمائش رضاکارانہ طور پر ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس بات کا اعلان فلم کی پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر کمپنی ’ویاکوم 18 موشن پکچرز‘ کے ترجمان نے آج اتوار کے روز کیا۔
اس فلم میں مشہور اداکارہ دپیکا پوڈکون نے رانی پدماوتی کا کردار ادا کیا ہے اور بھارت کے بہت سے علاقوں میں مختلف تنظیموں نے اس فلم پر تاریخ کو مسخ کرنے اور رانی پدماوتی کے کردار کی توہین کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید مظاہرے کئے ہیں۔ اگرچہ فلم کے ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی اور اس کی کاسٹ نے بار بار وضاحت کی ہے کہ فلم میں کوئی ایسا سین شامل نہیں کیا گیا ہے جس سے رانی پدماوتی کے تخیلاتی کردار کو ٹھیس پہنچتی ہو، مظاہروں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
اس سال جنوری میں اس فلم کی فلمبندی کے دوران ’کارنی سینا‘ کے کارکنوں نے سیٹ پر دھاوا بول کر نہ صرف سیٹ تباہ کر دیا تھا بلکہ ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی کو بھی مار پیٹ کر کے زخمی کر دیا تھا۔ گزشتہ روز اس تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ وہ فلم میں رانی پدماوتی کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ دپیکا پوڈکون کی ناک دے گی۔
اب فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی نے رضاکارانہ طور پر اس فلم کی نمائش اُس وقت تک روک دی ہے جب تک فلم کی نمائش کیلئے مطلوبہ تمام کلیئرنس نہ مل جائے۔
یہ فلم طے شدہ پرگرام کے مطابق یکم دسمبر کو نمائش کیلئے پیش کی جانی تھی۔ اس فلم کی کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلم میں راجپوتوں کی بہادری، عظمت اور روایت کو شاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ فلم ایک نظم پر مبنی ہے اور اس کی کہانی ایک ایسے انداز میں فلمائی گئی ہے کہ ہر بھارتی شہری اس کو دیکھ کر فخر محسوس کر سکے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فلم کی نمائش کی تبدیل شدہ تاریخ کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔
اس فلم کے خلاف پر تشدد مظاہرے کرنے والی تنظیم ’کارنی سینا‘ کے سربراہ لوکیندرہ سنگھ کالوی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کی نمائش چند روز کیلئے ملتوی کی گئی ہے اور وہ بھی چند روز انتظار کریں گے اور پھر صورت حال کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے۔

VOA بشکریہa {display:none;}