مبینہ جنسی زیادتی کی شکار خاتون سینیٹ کمیٹی میں پیش

مبینہ جنسی زیادتی کی شکار خاتون سینیٹ کمیٹی میں پیش

December 07, 2017 - 19:10
Posted in:

اسلام آباد — 
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ماہ تک مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی شادہ شدہ خاتون نے اپنی داد رسی کے لیے پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے رجوع کیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے بدھ کو ہونے والےسینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم کی داستان سے ارکان کو آگاہ کیا۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کے خاندان کے بعض افراد نے اسے کئی ماہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے خاندان سے سماجی تعلقات بھی ختم کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔
انسانی حقوق کی کمیٹی کی سربراہ سینیٹر نسرین جلیل نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ متاثر خاتون کی سینیٹ چئیرمین کے نام درخواست کے بعد انہوں نے خاتون کو طلب کر کے اس کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی تفصیل معلوم کی۔
خاتون نے کمیٹی کے سامنے موقف اخیتار کیا کہ اس کے شوہر کے بھیتیجے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کئی ماہ تک اس سے جنسی زیادتی کرتا رہا اور اس کی قابل اعتراض وڈیو بنا کر اسے بلیلک میل کر اس سے ہزاروں روپے حاصل کیے۔
نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے عہدیداروں نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور انہوں نے کہا کہ خاتون کا دعویٰ مکمل طور صداقت پر مبنی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے اس معاملے پر کمیٹی میں غور کیا تاہم اگر کہیں مجرمانہ فعل کا ارتکاب ہو تو اس بارے ہمارا فورم فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور بے شمار خواتین کے ساتھ تشدد ہوتا ہے لیکن وہ سامنے نہیں آتیں لیکن اگر سامنے آ جائیں تو پھر بھی ان کی داد رسی نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا جو کچھ متاثر خاتون نے کہا ان کے بیان میں کچھ نہ کچھ صداقت ہو سکتی ہے اس لیے وہ اس معاملے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر کے پاس بھیج رہے ہیں تاکہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔
نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں ایسے واقعات کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ان کےتدارک کے لیے کئی قوانین متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر بھی کئی اقدامات کیے ہیں تاہم ایسے واقعات کسی طور کم نہیں ہورہے ہیں۔

VOA بشکریہa {display:none;}