ماڈل ٹاؤن کیس: نئے بینچ کی تشکیل، سماعت دو اکتوبر سے

ماڈل ٹاؤن کیس: نئے بینچ کی تشکیل، سماعت دو اکتوبر سے

September 25, 2017 - 19:32
Posted in:

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو عام کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب کی اپیل پر عوامی تحریک کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار حنا سعید کے مطابق پیر کی دوپہر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں نیا تین رکنی فل بینچ بنایا گیا جس نے حکومتی درخواستوں پر ابتدائی سماعت کی۔یاد رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پنجاب پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔سانحۂ ماڈل ٹاؤن: انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائےطاہرالقادری کی واپسی، ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کا مطالبہ پنجاب حکومت کی جانب سے رپورٹ عام کرنے سے روکنے کے لیے عدالت میں ایک حکم امتناعی کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے عوامی تحریک کی اس یقین دہانی کے بعد خارج کر دیا کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک وہ وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر افراد پر توہین عدالت کی درخواست کی پیروی نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ 21 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام کرنے کی عوامی تحریک کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکریٹری ہوم کو جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت نے اپیل دائر کرتے ہوئے حکم امتناعی کی درخواست بھی لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی۔ پنجاب حکومت کا موقف تھا کہ سنگل بینچ نے یہ فیصلہ ان کے تحریری جواب کے بغیر ہی جاری کر دیا اور رپورٹعام نہ کرنے پر پنجاب حکومت کے خلاف پہلے ہی ایک توہین عدالت کی در خواست دائر ہو چکی ہے۔ حکومت کے وکیل نے استدعا کی کہ اپیل پر فیصلے تک سنگل بینچ کا حکم معطل کیا جائے۔

عوامی تحریک کے وکلا نے فل بینچ کو یقین دہانی کروائی کہ اپیل کے فیصلے تک حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی پیروی نہیں کریں گے۔ جس پر فل بینچ نے قرار دیا کہ اس یقین دہانی کے بعد حکم امتناعی کی فوری ضرورت نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اپیل میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں، اس لیے دو اکتوبر سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی۔ حکومتی اپیل پر لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان عوامی تحريک کو نوٹس جاری کر دیے۔لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمے داروں کے تعین کے لیے 28 اگست 2014 کو لارجر بنچ بنانے کا حکم دیا تھا۔26 اگست کو لاہور ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس میں پنجاب پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں ہلاکتوں کے سلسلے میں وزیر اعظم، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت حکومت کے 21 اراکین کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیا جائے۔واضح رہے کہ 17 جون کو پولیس نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ کےسامنے سے بیئریر ہٹانے کے لیے جو کارروائی کی تھی اس میں بیشتر زخمیوں اور ہلاک شدگان کو براہ راست گولیاں لگی تھیں۔ابتدا میں پولیس نے ان ہلاکتوں کا مقدمہ پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج کر لیا تھا اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کی جانب سے دی گئی درخواست پر نئی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اس سے قبل 21 جون کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے کہنے پر صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}