ماؤں کی جان بچانے والی ویڈیو لِنک کِٹ

ماؤں کی جان بچانے والی ویڈیو لِنک کِٹ

December 06, 2017 - 14:09
Posted in:

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ویڈیو لنک سے ماں کو بچانے کی کوشش'میں نو ماہ کی حاملە ہوں اور میرے لیے سفر کرنا تهوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔' دائی فاطمە نے پتهر کی سیڑهیوں پر احتیاط سے قدم رکهتے ہوئے اپنے کلینک کے دروازے تک پہنچی۔ مگر یہاں اپنے مریضوں کے لیے آئی ہوں۔'ننانوے فیصد مائیں بچ سکتی ہیں اگر ان کے پاس کوئی ڈاکٹر یا دائی موجود ہو۔ سینٹر آف ایکسیلنس برائے رورل کے مطابق پاکستان میں ہر بیس منٹ بعد میں ایک خاتون زچگی میں پیچیدگیوں کی وجە سے اپنی جان سے جاتی ہے۔ فاطمە صحت کہانی کے لیے کام کرتی ہیں جو کمیونٹی میں دائیوں کی تربیت کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہے جو دائیوں کو ڈاکٹروں کے ساته ویڈیو لنک کے ذریعے منسلک کرتی ہے۔ ان ویڈیو کنسلٹیشن یا معائنوں کے سیشن کے لیے صرف پچاس روپے لگتے ہیں جن کی مدد سے بنیادی صحت کی سہولیات دیہی علاقوں میں خواتین کی دسترس میں ہوتی ہیں اور ان کی پہنچ میں ہوتی ہیں۔آج وە روبینە مختار سے مل رہی ہیں جو مانسہرە میں رہتی ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ 'میرے دو بچے مردە پیدا ہوئے اور چار دفعہ حمل ضائع ہوا اور اب میں دو مہینے کی حاملہ ہوں۔روبینہ خوش قسمت ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں گذشتہ حمل کے دوران شدید سر درد ہوتا تھا جوڑ سوج جاتے تھے اور شدید متلی ہوتی تھی۔ یہ پری ایکلیمپسیا کی علامات ہیں جو کہ ہائی بلڈ پریشر کی ایک قسم ہے جو زچہ اور بچہ دونوں کی جان کی دشمن ہے۔جب تک وہ اسلام آباد میں ہسپتال پہنچیں ان کے جڑواں لڑکوں کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی۔

’جب انھوں نے الٹراساؤنڈ کیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ میرے دونوں بچے پندرہ دنوں سے مردہ ہیں۔‘

”مجھے لڑکے کی بہت خواہش تھی مگر اللہ کی مرضی۔‘یہ روبینہ کی کا دسواں حمل تھا مگر اس کا یہ پہلا اینٹی نیٹل چیک اپ تھا ایک تربیت یافتہ دائی اور ڈاکٹر کے ساتھ۔فاطمہ نے روبینہ کا بلیڈ پریشر چیک کیا اور اپنے لیپ ٹاپ پر ڈاکٹر کو بتایا جس میں ہر چیز نارمل تھی۔روبینہ نے کہا ’میرے ہمسائے میں ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ مجھے صحت کہانی سے رابطہ کرنا چاہیے۔‘’یہاں آ کر میں بہت پُر امید ہوں کہ اپنے پچھلے اسقاط حمل کے باجود اس بار میں ایک صحت مند لڑکے کو جنم دوں گی۔‘

فاطمہ نے معائنے کا کمرہ چھوڑتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ان کو دیک کر بہت دکھ ہوتا ہے۔‘’اگر آپ کے کئی اسقاطِ حمل ہو چکے ہیں تو صرف ایک ماں ہی جان سکتی ہے کہ اس سے کتنا درد محسوس ہوتا ہے۔‘ فاطمہ کہتی ہے کہ ماضی میں وہ کام نہیں کر پاتی تھیں کیونکہ 'انہیں اپنے خاندان سے کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔‘'کیونکہ میں صرف خواتین کے ساتھ کام کرتی ہوں اس لیے مجھے کام کرنے کی اجازت ملی ہے۔ مجھے مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘عورتوں کو گھر سے باہر کام نہ کرنے دینے کی وجہ سے حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں قابل خواتین ڈاکٹر اور دائیاں پاکستان کی کام کرنے والی قوت کا حصہ نہیں ہیں۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق طب کے شعبے میں 70 فیصد طالبات خواتین ہیں مگر ان میں سے صرف نصف ڈاکٹر بن کر ہی کام کریں گی۔صحت کہانی کی بنیاد سارہ سعید اور عفت ظفر نے رکھی۔

سارہ نے بتایا کہ 'ہم دونوں میڈیکل کی طالبات ہیں اور ہم نے پاکستان کی بہترین جامعہ سے گریجویٹ کیا ہے۔ ہم دونوں کو شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد کام کرنے کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ سو ہم ان غائب ڈاکٹروں کے معاملے کو سمجھ سکتے ہیں جو کام نہیں کر پاتی ہیں۔‘انہوں نے اس تنظیم کی بنیاد 2014 میں رکھی جس نے انہیں اپنے گھر سے ویڈیو لنک کے ذریعے کام کرنے کی توفیق دی۔ اس کے نتیجے میں انھیں ناقابلِ رسائی صحت کی سہولیات تک پہنچنے میں مدد ملی۔2017 میں سارہ اور عفت نے فیصلہ کیا کہ خواتین کے لیے بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے صحت کہانی قائم کی جائے۔سارہ نے بتایا کہ 'ہمیں احساس ہوا کہ ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو کلینک تک نہیں پہنچ سکتے۔ یا تو ان کی صحت ان کے خاندان کے لیے اہم نہیں ہے یا انہیں کبھی بھی گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔‘'تو ہمیں یہ خیال آیا کہ کوں نہ ہم دائی یا صحت کے لیے کام کرنے والی کارکن کو ایک کمپیوٹر یا ٹیبلیٹ دیں اور ایک بستہ دیں۔ جو در در جائیں اور گھروں پر جا کر صحت کے لیے مشورے فراہم کریں ایسے لوگوں کو جو کلینک نہیں جا سکتے۔‘

طیبہ انجم علی فاطمہ کی مریضوں میں سے ایک ہیں اور ان کے چار بچے ہیں جن میں ایک نومولود بیٹا ہے۔طیب کے مطابق 'جب میں پہلی بار حاملہ تھی تو میں بہت تکلیف میں تھی مگر اس بار کا حمل بہت آسان ہے۔ اگر میں گھر سے نہ نکل سکوں کیونکہ میں بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تو میں دائی کو گھر بلا سکتی ہوں کہ وہ گھر آجائے اور ٹیسٹ کر لے۔‘فاطمہ نے دونوں زچہ اور بچہ کی جانچ کی اور پھر طیبہ کو بچے کو دودھ پلانے کے بارےمیں ایک ویڈیو اپنی ٹیبلٹ پر دکھائی۔فاطمہ نے بتایا کہ 'میں ایسے علاقے سے ہوں جہاں خواتین ڈاکٹر کے پاس جانے کو اہم نہیں سمجھتیں۔ میں ایک ایسی تنظیم کے لیے کام کرتی ہوں جو خواتین میں آگہی فراہم کرتی ہیں اچھے ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}