لکھنؤ کے مندر میں افطار کا اہتمام

لکھنؤ کے مندر میں افطار کا اہتمام

June 12, 2018 - 16:25
Posted in:

دریائے گومتی کے کنارے ایک طرف شیو مندر میں پوجا کی گھنٹیوں اور دوسری جانب اللہ اکبر کی صدائیں۔ یہ نظارہ حال ہی میں انڈیا کے تہذیب و ثقافت کے شہر لکھنؤ میں نظر آیا۔مقام تھا من کامیشور مندر جہاں مسلمانوں کے لیے افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا اور شام میں روزے داروں نے آرتی اور نماز کے ساتھ اپنا روزہ کھولا۔شہر میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب کسی مندر میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ گومتی ندی کے کنارے واقع قدیم شیو مندر ہندوؤں کے عقیدے کا ایک بڑا مرکز ہے۔افطار کا اہتمام مندر کی بڑی پجارن دِویہ گری نے کیا تھا۔ افطار میں سینکڑوں مسلمان روزے داروں نے شرکت کی۔ اس میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے علما بھی موجود تھے۔یہ بھی پڑھیےآر ایس ایس افطار لے کر تیار ہے کشمیر میں شیعہ سنی اتحاد کا انوکھا مظاہرہافطار کے بارے میں مہنت دِویہ گری نے بتایا: 'سبھی مذاہب محبت اور ہم آنگی کا پیغام دیتے ہیں۔ کئی بار مسلم بھی ہندوؤں کے تہواروں کے موقع پر مذہبی تقریبات میں حصہ لیتے ہیں۔ پجاریوں، اماموں اور مہنتوں کو بھائی چارے اور امن کا پیغام دینا چاہیے۔ صبح سے شام تک روزے رکھنے والوں کی خدمت کرنا ثواب کا کام ہے۔'

ایک کارکن محمد فرقان کا کہنا تھا 'ہمارا یہی خواب ہے کہ نہ صرف لکھنؤ بلکہ پورے ملک میں سبھی مذاہب کے لوگ ہر مذہب کا تہوار مل جل کر منائیں۔'ابھی گذشہ ہفتے ایودھیا کے بھی ایک قدیم مندر کے مہنت نے مقامی مسلمانوں کو افطار کی دعوت دی تھی۔ متنازع رام جنم بھومی مندر کے نزدیک واقع سریو کنج مندر کے مہنت نے اس افطار کا اہتمام کیا تھا۔ روزے داروں نے افطار کے ساتھ مندر کے احاطے میں ہی نماز بھی ادا کی تھی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}