لوٹ کا مال واپس لائے بغیر احتساب ادھورا رہیگا‘ سراج الحق

لوٹ کا مال واپس لائے بغیر احتساب ادھورا رہیگا‘ سراج الحق

November 14, 2017 - 23:41
Posted in:

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے قوم کے اربوں ڈالر بیرونی بینکوں میں لٹیروں نے جمع کر رکھے ہیں، یہ پیسہ واپس لانے کے لیے عدالت عظمیٰ سو موٹو ایکشن لے کر ایک میکنزم بنائے ، جب تک بیرونی بینکوں میں موجود پیسہ واپس نہیں آتا احتساب کا عمل ادھورا رہے گا ، قوم نیب کی فائلوں میں دبے ہوئے کرپشن کے 150 میگا اسکینڈلز کھلنے کی منتظر ہے ، اگر اب بھی نیب نے وہ اسکینڈلز نہ کھولے تو عوام یہی سمجھیں گے کہ نیب بااثر لوگوں کے دباؤ میں ہے ، ملک میں غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری نے پنجے گاڑ رکھے ہیں، 11 کروڑ 33 لاکھ پاکستانی غذائی قلت کا شکار ہیں اور 89 فیصد شہریوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق صاف پانی نہیں مل رہا جس کی وجہ سے لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں ۔سالانہ ڈھائی لاکھ طالبعلم ڈگریاں لے کر یونیورسٹیوں سے فارغ ہورہے ہیں ، مارکیٹ میں روزگار کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ نوکریوں کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں ، آئین سے عقیدہ ختم نبوت کا حلف نکالنے والوں کو بھی ابھی تک بے نقاب نہیں کیا گیا ، حکومت نے خود ہی کمیٹی بنائی اور اب خود ہی مٹی پاؤ پالیسی اختیارکیے ہوئے ہے ، چلے ہوئے کارتوسوں سے کوئی مورچہ فتح نہیں ہوسکتا ، کلین اور دیانتدار قیادت ہی ناؤ کو بچاسکتی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں لیاقت بلوچ ، میاں محمد اسلم ، راشد نسیم ، حافظ محمد ادریس امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد ، ڈاکٹر سید وسیم اختر ، اصغر گجر ، بلال قدرت بٹ اور دیگر رہنما شریک تھے ۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ عدالت عظمیٰ مقدمات کی سماعت کے ساتھ ساتھ بیرون ملک پڑا ہوا قومی سرمایہ واپس لانے کے لیے بھی ایک میکنزم بنائے اور از خود نوٹس لے کر قومی خزانے سے لوٹے گئے کھربوں روپے واپس لائے جائیں تاکہ قومی و بیرونی بینکوں اور آئی ایم ایف کاقرض ادا ہوسکے اور عوام کو بھی ٹیکسوں سے ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کو بتایا تھاکہ 200ارب ڈالر سے زائد لوٹا ہوا قومی سرمایہ بیرونی بینکوں میں پڑاہواہے اگر یہ روپیہ ملک میں آ جائے توکافی مالی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں 2کروڑ بچوں کو تعلیم کی سہولت نہیں مل رہی ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کو بیڈ ملتے ہیں نہ انہیں علاج ملتاہے ۔ 67 لاکھ پاکستانی منشیات کا شکار اور 34 فیصد ڈیپریشن میں مبتلا ہیں ۔ ان تمام مسائل کی جڑ غربت ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور مہنگائی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پھیلی ہوئی بدترین غربت کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے ارب پتی لیڈر شپ اپنے مفادات اور دولت کو بچانے میں مصروف ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کو کنگال کرنے والے حکمرانوں کے اپنے بچے امریکا اور لندن میں کاروبار کرتے ہیں ۔ ان کا علاج بھی باہر ہوتاہے ۔وہ صرف حکمرانی کے لیے پاکستان آتے ہیں عوام کا کام ووٹ ، بل اور ٹیکس دینا رہ گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک یہ مفاد پرست ٹولہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہے ، عوام کو سکھ کا سانس نہیں آئے گا ۔ انہوں نے کہاکہ ان مغل شہزادوں نے سیاست کو اپنی تسکین کاذریعہ بنارکھاہے ۔ پارٹیا ں اور جھنڈے بدل کر ایوانوں میں پہنچنے والے قومی مفادات کا سودا کرتے ہیں اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے سیاست میں آتے ہیں ۔ پارٹیاں بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ، کردار بدلنے کی ضرورت ہے ۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}