لنگر جہاں ذات پات، رنگ و نسل کی قید نہیں

لنگر جہاں ذات پات، رنگ و نسل کی قید نہیں

November 20, 2017 - 12:29
Posted in:

لنگر کا اصل مفہوم وہ دسترخوان ہے جہاں ہر فرد بلا کسی تفریق مذہب و ملت نسل و نژاد کھانا کھا سکتا ہے۔ یہ مطبخِ عام ہے جہاں نہ ذات پات کی قید ہے نہ رنگ و نسل کا بھید بھاؤ۔یہ زمانۂ قدیم سے کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے اور مسلم صوفیوں کی درگاہوں پر عرس یا کسی خاص موقعے پر اس کا اہتمام آج بھی ہوتا ہے۔لیکن کہا جاتا ہے کہ سکھ مذہب میں لنگر کی بنیاد گرو نانک نے 1481 میں رکھی تھی جس کا مقصد آپس کے میل جول کو فروغ دینا، مذہبی تفریق کو مٹانا اور ایک دوسرے کا احترام تھا۔ یعنی: ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازیہ بھی پڑھیں٭ مالیرکوٹلہ کی کہانی٭ کھچڑی کے چار یار، قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار٭ ’آج کی رات یہ لگتا ہے پری آئے گی‘

لنگر کے کچھ اصول ہیں جن میں کھانا تازہ، گرم اور صاف ستھرا ہو۔ خواتین کھانا بناتے ہوئے گربانی کا ذکر کرتی ہیں۔ لنگر تیار ہوجانے پر کھانے کا چھوٹا سا حصہ گرو گرنتھ صاحب کے آگے رکھ دیا جاتا ہے۔ دعا کے بعد یہ کھانا برکت کے لیے سارے دیگوں میں ملا دیا جاتا ہے۔٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}