لاہور ہائی کورٹ ماحولیاتی پالیسی کی نگرانی کرے گی

لاہور ہائی کورٹ ماحولیاتی پالیسی کی نگرانی کرے گی

November 15, 2017 - 08:56
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape no-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="سموگ" src="https://ichef-1.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/1C6B/production/_98757270_..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurep class="story-body__introduction"پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قائم لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس منصور علی شاہ نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی ہے کہ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر ویب سائٹ پر ڈالا جائے۔/ppمنگل کو سماعت شیراز زکا ایڈوکیٹ کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواست پر کی گئی تھی۔ جس کے دوران چیف جسٹسں منصور علی شاہ نے کہا کہ اس حوالے سے حکم بدھ کو جاری کیا جائے گا۔/ppعدالت کے حکم پر صوبائی محکمہ ماحولیات نے قلیل مدتی اقدامات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔/ph2 class="story-body__sub-heading"یہ بھی پڑھیے/h2pa href="/urdu/regional-41955371" class="story-body__link"سموگ کے معاملے پر پنجاب حکومت کا انڈیا سے رابطہ/a/ppa href="/urdu/regional-41944186" class="story-body__link"دلی سموگ: خاموش قاتل جو نظر آتا ہے نہ نظر آنے دیتا ہے/a/ppنامہ نگار حنا سعید کے مطابق محکمہ ماحولیات نے بتایا کہ اگر پی ایم کی سطح دو عشاریہ پانچ یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس 200 سے 300 ہوا تو انڈسٹریل یونٹس بندہو کیے جائیں گے۔/ppاسی سطح کے 300 سے 400 ہونے پر پرائمری سکول بند ہوں گے اور تعمیراتی کام بھی روک دیا جائے گا۔/pfigure class="media-landscape full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepپی ایم کی سطح 400 سے 500 ہونے پر تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں گے اور سب کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا جائے گا، اور پارک بھی بند ہوں گے۔ اس دوران چہرے پر ماسک پہننا بھی ضروری ہو گا۔ /ppاگر یہ حد سے تجاوز کر جائے یعنی یہ سطح 500 سے اوپر ہونے پر میڈیکل ایمرجنسی لگ جائے گی اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔/ppعدالت میں منگل کو محکمہ موسمیات، صحت، تعلیم اور ماحولیات کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔/ppچیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ پی ایم لیول بارش سے پہلے 300 ہونا چاہیے تھا۔ /ppمحکمہ ماحولیات سے استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے وہ اقدامات بتائیں جو لیول بڑھنے پر خودبخود ہو جائیں گے۔ /ppاس پر سیکریٹری ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی بنا لی ہے۔ سب سے پہلے ایڈوائزری جاری کریں گے۔/ppچیف جسٹسں نے کہا کہ ہم بنائی گئی پالیسی کو وقتاً فوقتاً مانیٹر کریں گے۔/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style