لاڑکانہ کے لوگ کیسا پانی پی رہے ہیں؟

لاڑکانہ کے لوگ کیسا پانی پی رہے ہیں؟

December 07, 2017 - 06:07
Posted in:

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بلاول بھٹو کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس لاڑکانہ کے لوگ ان پر قربان ہونے کو تیار ہیں، وہ کیسا پانی پی رہے ہیں؟ کراچی میں بدھ کو صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ صاف پانی کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن صوبہ سندھ میں انسانی فضلہ دانستہ طور پر پینے کے پانی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی موجودگی میں درخواست گذار کی آلودہ پانی پر دستاویزی فلم پروجیکٹر پر دکھائی۔چیف جسٹس نثار ثاقب نے مراد علی شاہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ صورت حال کو کیسے بیان کروں جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے موقف اختیار کیا کہ جو ویڈیو چلائی گئی وہ درخواست گزار کی بنائی ہوئی ہے اور صورت حال اتنی سنگین نہیں ہے۔یہ بھی پڑھیے'آخر بلاول بھٹو ہماری کب سنے گا'کراچی میں صاف پانی کی چوریکراچی کے دسیوں لاکھ افراد پانی سے محرومکراچی میں پانی کی فراہمی کا منافع بخش کاروبارچیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بلاول بھٹو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس لاڑکانہ کے لوگ ان پر قربان ہونے کو تیار ہیں وہ کیسا پانی پی رہے ہیں؟جسٹس فیصل عرب نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ پیپلز پارٹی کی ماضی کی حکومتوں کے خلاف لوگوں نے عدالتوں میں درخواستیں کیوں نہیں جمع کرائیں اب کیا ہو گیا ہے؟ کیوں لوگ عدالتوں میں آ رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کا شوق نہیں اور اس کے پاس اپنے بہت کام ہیں لیکن جب شہریوں کی کوئی نہیں سنتا تو پھر وہ عدالت کا رخ کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ کو کہا کہ شاہ صاحب سن لیں اب سندھ میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہونا ہے۔ انھوں نے وزیر اعلی سندھ سے کہا کہ وہ تحریری طور پر بتائیں کہ اس مسئلے کو کیسے اور کب تک حل کیا جائے گا؟

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کراچی میں ٹینکرز ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں اور سندھ حکومت کو ان سے جان چھڑانی چاہیے۔ انھوں نے سوال کیا کہ شہری پانچ ہزار روپے میں ایک ٹینکر لینے پر مجبور ہیں لیکن یہ ٹینکر والے پانی کہاں سے لاتے ہیں؟ میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کراچی میں منرل واٹر کے نام پر 120 روپے میں جو پانی فروخت کیا جا رہا ہے کیا کسی نے اس کے معیار کو چیک کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ واٹر بورڈ کا پانی لیبل لگا کر فروخت کیا جا رہا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر انتظامیہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کرے گی تو عدالتوں کو کام کرنا پڑے گا۔ سید مراد علی شاہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت کام کرتے ہوئے نظر آئے گی لیکن اس کے لیے انھیں وقت دیا جائے۔یاد رہے کہ شہاب اوستو ایڈووکیٹ نے سندھ میں پینے کے لیے آلودہ پانی کی فراہمی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس نے اس بات کی تصدیق کی کہ سندھ میں آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور اس میں انسانی فضلہ بھی شامل ہوتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}