لاپتہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کون ہیں؟

لاپتہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کون ہیں؟

October 09, 2018 - 09:14
Posted in:

سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو شادی کے دستاویزات لینے کے لیے استنبول میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے پھر واپس نہیں نکلے۔استنبول میں حکام کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی چاردیواری میں انھیں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا لیکن سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ صحافی خاشقجی سفارتخانے سے نکل گئے تھے۔ایک زمانے میں خاشقجی سعودی عرب کے شاہی خاندان میں مشیر ہوا کرتے تھے لیکن پھر وہ تیزی سے سعودی حکومت کی نظرِ عنایت سے دور ہوتے گئے یہاں تک کہ گذشتہ سال سے وہ خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگے۔یہاں ہم ان کے کریئر اور ان واقعات پر روشنی ڈال رہے جو بالاخر پر ان کی گمشدگی کا باعث بنا۔جمال خاشقجی سنہ 1958 میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی تھی۔اسی بارے میںسعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول سے لاپتہجمال خشوگی کو سعودی سفارت خانے میں قتل کیا گیا: ترکیجمال خاشقجی:’گمشدگی میں سعودی ہاتھ ہوا تو بھاری قیمت چکانا ہو گی‘اس کے بعد وہ سعودی عرب لوٹ آئے اور ایک صحافی کے طور پر سنہ 1980 کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انھوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنی صحافت شروع کی۔اس دوران انھوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن پر قریب سے نظر رکھی اور سنہ 1980 اور 90 کی دہائیوں میں کئی بار ان سے انٹرویو کیا۔معروف صحافیاس کے بعد سے انھوں نے خطۂ عرب میں رونما ہونے والے دوسرے اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی کی جن میں کویت کے معاملے پر ہونے والی خلیجی جنگ بھی شامل تھی۔

اپنی تحریروں میں انھوں نے سعودی حکومت پر کریک ڈاؤن میں اصل انتہا پسندوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور ولی عہد شہزادہ کا روسی صدر ولادمیر پوتن سے موازنہ کیا۔ان کا آخری کالم 11 ستمبر کو شائع ہوا تھا اور گذشتہ جمعے کو اخبار نے ان کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خالی کالم کی اشاعت کی ہے۔مسٹر خاشقجی کو منگل کے بعد اس وقت سے نہیں دیکھا گیا ہے جب وہ طلاق کے سرکاری دستاویز لینے کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے تاکہ وہ ایک ترکی خاتون سے شادی کر سکیں جن سے ان کی منگنی ہوئی تھی۔ان کی منگیتر ہاتف چنگیز نے کہا کہ انھوں نے قونصل خانے کے باہر گھنٹوں ان کی واپسی کا انتظار کیا لیکن وہ نہیں لوٹے۔انھوں نے بتایا کہ اس عمارت میں داخل ہونے سے پہلے ان کے موبائل فون کو رکھوا لیا گیا اور انھوں نے اس سے قبل اپنی منگیتر کو بتایا تھا کہ اگر وہ نہ لوٹیں تو وہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ایک مشیر سے رابطہ کریں۔ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں انھیں قونصل خانے کے احاطے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے اور انھوں نے وہاں داخلے کی اجازت طلب کی ہے جبکہ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔جمال خاشقجی نے اپنے آخری کالم میں یمن میں سعودی عرب کی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}