لاشوں کو محفوظ رکھنے کی’قدیم مصری ترکیب دریافت‘

لاشوں کو محفوظ رکھنے کی’قدیم مصری ترکیب دریافت‘

August 17, 2018 - 08:59
Posted in:

حنوط شدہ لاش کے تجزیے سے قدیم مصر کی اس اصل ترکیب کے بارے میں معلوم ہوا ہے جسے وہ لاشوں کو صحیح حالت میں محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔فارنزک کیمیکل ٹیسٹ 3700-3500 قبل مسیح کی ایک حنوط شدہ لاش پر کیے گئے جس سے انھیں صحیح حالت میں محفوظ رکھنے کی ترکیب کے بارے میں پتہ چلا اور اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ اس ترکیب کو بہت پہلے اور بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔اس حنوط شدہ لاش کو اٹلی کے شہر ٹیورن کے اجپشن میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ یہ تحقیق آرکیالوجیکل سائنس نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔اس بارے میں مزید پڑھیےمینیسوٹا: ڈیپارٹمنٹ سٹور سے حنوط شدہ بندر برآمد 150 برس سے خالی تصور کیے جانے والے تابوت میں ممی موجودنئی تکنیک سے حنوط شدہ لاشوں پر لکھی تحریر پڑھنی ممکنیونیورسٹی آف یارک کے ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر سٹیفن بکلے نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ یہ حنوط شدہ لاش ’اصل میں اس ترکیب کا پتہ دیتی ہے جو مصری 4000 سال سے لاشوں کو محفوظ کرنے کے لیے استمعال کر رہے تھے۔‘ڈاکٹر بکلے اور ان کے ساتھیوں نے ہر جز کے ہر ایک کیمیکل ’فنگر پرنٹ‘ پر کام کیا، جبکہ ہر ایک عنصر مختلف ذرائع سے حاصل کیا گیا تھا۔تو بنیادی تریب کچھ ایسی ہے: ایک پودے کا تیل، ممکنہ طور پر تلوں کا روغن

  • ’بلسم جیسا‘ پودا یا ایک خاص قسم کی گھاس سے حاصل کردہ عرق
  • ممکنہ طور پر کیکر سے حاصل کرتا قدرتی میٹھاس، پودوں کی گوند
  • صنوبر جیسے درخت سے حاصل کردہ گوند

جب اس گوند کو تیل میں ملایا جاتا ہے تو وہ اسے دافع جَراثیم (اینٹی بیکٹیریئل) بنا دیتا ہے، جو جسم کو گلنے سڑنے سے محفوظ رکھتا ہے۔

سائنسدانوں نے ترکیب کیسے تلاش کی؟ڈاکٹر بکلے نے کئی سال پہلے اس ترکیب کی تلاش شروع کی تھی جب انھوں نے اور ان کی ٹیم نے مصری کپڑے جس میں وہ حنوط شدہ لاشوں کو لپیٹتے تھے کو حاصل کیا اور اس کا تجزیہ کیا۔شمالی انگلینڈ میں بولٹن میوزیم میں موجود مصری کلیکشن میں یہ کپڑے موجود ہیں۔یہ کپڑے کوئی 4000 قبل مسیح سے بتائے جاتے ہیں اور یہ اس وقت سے بہت زیادہ پرانے ہیں جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ جب لاشوں کو حنوط کرنا شروع کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر بکلے کے مطابق ’لاشوں کو حنوط کرنے کی سلسلہ 2600 قبل مسیح شروع ہوا جب گریٹ احرام مصر تعمیر کیا گیا۔‘’لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ لاشوں کو صحیح حالت میں محفوظ رکھنے کا عمل اس سے کافی پہلے شروع ہو چکا تھا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}