قطری بحران: ’سینکڑوں جوڑے علیحدہ رہنے پر مجبور‘

قطری بحران: ’سینکڑوں جوڑے علیحدہ رہنے پر مجبور‘

September 21, 2017 - 13:07
Posted in:

خلیفہ ال ہارون گذشتہ تین ماہ میں صرف ایک مرتبہ اپنی والدہ سے مل پائے ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے محض چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر مقیم ہیں۔ ان کی ملاقات تقریباً ہر ہفتے باقاعدگی سے ہوا کرتی تھی۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کے درمیان سرحدیں حائل ہو گئی ہیں۔ وہ سرحدیں جو دہائیوں سے موجود تھیں تاہم کبھی دونوں اطراف رہنے والوں کے درمیان ایسے حائل نہیں ہوئیں تھیں۔قطر کے رہائشی 33 سالہ خلیفہ کی والدہ بحرین میں رہتی ہیں۔ زمینی راستے سے بحرین اور قطر کے درمیان فاصلہ لگ بھگ 150 کلومیٹر ہے۔ خلیفہ اپنی گاڑی میں آرام سے بحرین جا کر اسی روز واپس آ سکتے ہیں۔وہ پہلے کئی مرتبہ اسی طرح بحرین جا بھی چکے ہیں۔ مگر اب نہیں جا سکتے۔ ایک فیصلے کے نتیجے میں سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی زمینی اور فصائی سرحدیں رواں سال 5 جون سے قطر کے رہنے والوں پر بند کر دی گئی تھیں۔٭ فون کال کی خبر پر سعودی عرب ناراض، مذاکرات سے انکار٭ سعودی عرب میں پھنسے غیر ملکی ملازم٭ قطر بحران: ڈیڈ لائن کے بعد کیا ہوگا؟٭ قطر کو تمام 13 مطالبات ماننا ہوں گے: عرب ملکقطر پر الزام لگایا گیا کہ وہ پس پردہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی معاونت کرتا ہے جس کی قطر تردید کر چکا ہے۔خلیفہ کہتے ہیں 5 جون کو جب وہ بیدار ہوئے تو ان کو دھچکا لگا۔ 'مجھے یقین نہیں آیا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ہم سب تو بھائی ہی، امارات اور بحرین کے لوگ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔'دوحہ کہ پوش علاقے ویسٹ بے لاگون میں واقع اپنے دفتر میں کمپیوٹر پر کام کرتہ ہوئے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے خلیفہ یاد وہ وقت یاد کرتے ہیں جب ان کا پورا بچپن بحرین میں گزرا اور وہ ہر ہفتے آرام سے جا کر اپنی والدہ سے مل کر آ جاتے تھے۔ اب تو مہینے گزر گئے اور مزید نہ جانے کتنے دن گزریں گے۔'میرے لیے تو بحرین میرا دوسرا گھر ہے۔ وہاں ہمارا گھر ہے، ہماری جائیداد ہے اور یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ اب ہم وہاں نہیں جا سکتے۔'

'مخلوط خاندان اور سماجی تانے بانے سرحدوں کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ وہ مشکل ترین پہلو ہے جس کا ہمیں سامنا رہا ہے اور ہم سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس کے اثرات بہت دیر تک باقی رہیں گے۔'ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کا پہلے دن سے یہ مؤقف رہا ہے کہ عام شہریوں کو اور انسانی اقدار کو سیاست کا شکار نہیں بننے دینا چاہیے۔ وہ اپنے طور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو لکھ چکے ہیں کہ وہ بائیکاٹ کرنے والے ممالک پر زور دیں کہ وہ 'بنیادی انسانی حقوق کا احترام کریں۔'قطر بیک چینل کے ذریعے بحران کے حل کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے اور تعمیری مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے تاہم دوسری جانب سے عدم دلچسپی کی وجہ سے مسئلے کے حل کی طرف کوئی سنجیدہ کوشش تاحال نظر نہیں آئی۔٭ قطر کو مشرق وسطیٰ کے بعض دیگر ملکوں کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے بعد ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا ہے۔ بی بی سی قطر بحران کے وہاں رہنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد پر اثرات کے بارے میں خصوصی رپورٹس کا سلسلہ شروع کر رہی ہے۔یہ رپورٹس آپ ہر جمعرات اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے علاوہ شام سات بجے آج نیوز کے علاوہ ریڈیو سیربین اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے علاوہ ہمارے یو ٹیوب چینل پر بھی دیکھ سکیں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}