قصور میں احتجاج جاری، زینب قتل کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیرِ بحث

قصور میں احتجاج جاری، زینب قتل کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیرِ بحث

January 12, 2018 - 11:16
Posted in:

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہی ہے اور سڑکیں اور بازار بند کرانے کی کوشش کرنے والے بعض مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اسلام آباد — 
قصور میں زینب نامی ایک بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے پر شہر میں گزشتہ دو روز سے جاری پرتشدد مظاہروں کے بعد جمعے کو حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
جب کہ جمعے کو شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی زینب کے قتل کا معاملے پر بحث ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ زینب روڈ کوٹ کے علاقے میں گزشتہ اتوار کو ٹیوشن پڑھنے گئی تھی اور پھر واپس نہیں لوٹی۔ منگل کو اس کی لاش ایک کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔
قتل کے خلاف بدھ اور جمعرات کو قصور میں صورتِ حال انتہائی کشیدہ رہی اور مظاہروں کا سلسلہ دونوں روز تک جاری رہا جس کے دوران مشتعل مظاہرین نے کئی املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔
پرتشدد احتجاج کے دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں دو افراد ہلاک بھی ہوئے۔
تاہم جمعے کی صبح شہر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بعض بازار دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے جب کہ معمولاتِ زندگی بھی بحال ہو رہے ہیں۔
پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہی ہے اور سڑکیں اور بازار بند کرانے کی کوشش کرنے والے بعض مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کے نام پر زینب کے والد نے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد صوبائی حکومت نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ابوبکر خدا بخش کی جگہ اب ریجنل پولیس آفیسر ملتان محمد ادریس کو ’جے آئی ٹی‘ کا سربراہ بنا دیا ہے۔
دریں اثنا پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ’ساحل‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے پہلے چھ میں ملک کے مختلف حصوں میں بچوں سے جنسی زیادتی کے 768 واقعات سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں سے 68 واقعات صرف ضلع قصور میں رپورٹ ہوئے۔
قصور میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر ملک میں بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملے کو نہ صرف اجاگر کیا ہے بلکہ بچوں کو اس طرح کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی آواز بلند کی جا رہی ہے۔
غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری طور پر ایسا کوئی ادارہ یا طریقہ کار نہیں جس کے تحت بچوں سے جنسی زیادتی واقعات کا ریکارڈ جمع کیا جاتا ہو۔
اس سے قبل بھی ضلع قصور کا نام بچوں سے جنسی زیادتی کے کیسز کے حوالے سے سامنے آتا رہا ہے۔

VOA بشکریہa {display:none;}