قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

June 13, 2018 - 22:02
Posted in:

اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اْس وقت وہ اْنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ۔ یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ ’’نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں‘‘ اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں۔ ہم اْسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔ (سورۃ الانعام: 108تا110)
سیدنا ابوموسی اشعریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’تکلیف دہ کلمات سن کر اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر و تحمل کرنے والا کوئی نہیں، لوگ اس کے لیے بیٹا تجویز کرتے ہیں وہ اس پر بھی (ان سے انتقام نہیں لیتا بلکہ) ان کو عافیت بخشتا ہے اور روزی پہنچاتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)۔۔۔علی بن حجر، یزید، ابن ہارون، حمید، حسن، عبداللہ ابن عباسؓ نے ایک مرتبہ بصرہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اپنے روزوں کی زکوٰۃ دیا کرو۔ یہ سن کر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے فرمایا یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر ہر چھوٹے بڑے آزاد و غلام اور مرد و عورت پر فرض کیا ہے۔ اس کی مقدار نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع (تقریبا تین کلو) جو کی ہے۔ (سنن نسائی)
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}