فرانس میں مسلم معاشرے اور تنظیمی ڈھانچوں کی اصلاحات کا پروگرام

فرانس میں مسلم معاشرے اور تنظیمی ڈھانچوں کی اصلاحات کا پروگرام

February 13, 2018 - 21:52
Posted in:

پیرس — 
فرانس کے صدر امینول میکران نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں رہنے والی مسلم کمیونٹی کے زندگیوں اور ان کے تنظیمی ڈھانچوں میں بڑے پیمانے کی ا صلاحات کے لیے بنیادی اقدامات کر رہی ہے۔
جریدے ’ڈی مانش‘ سے اپنے ایک انٹرویو میں صدر میکران نے کہا کہ وہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران جہادی حملوں کے باعث قومی سطح پر اٹھنے والے تنازع کو اپنے انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا عمل موجودہ سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہی شروع ہو جائے گا جس میں اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف جنگ، مسلم تنظیموں کے ڈھانچوں کی تعمیر نو اور معاشرے کے ساتھ ان کے تعلقات کو منظم بنانا شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے منصوبے کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔
آئین کے اعتبار سے فرانس ایک سیکولر ملک ہے۔ سن 1905 کے آئین کے تحت ریاست اور چرچ ایک دوسرے سے الگ ہیں اور آئین میں کسی بھی مذہب کو تسلیم کرنے یا انہیں فنڈز مہیا کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
حالیہ عرصے کے بحث مباحثوں میں موجودہ قانون میں ترمیم لانا بھی شامل ہے، لیکن صدر میکران کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس نظریے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے ہم جو طریقہ بھی اختیار کریں وہ ملک کے آئین کی سیکولر روح کے دائرے کے اندر ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں کسی مذہب کو ماننے یا نہ ماننے کے حق کا احترام، اور قومی ہم آہنگی کا فروغ۔
فرانس کی حکومت ملک بھر میں اسلامی اداروں کی فنڈنگ اور اماموں کی تربیت کے تنازع سے منسلک متنازع کا حل ڈھونڈ نا چاہتی ہے۔ پیرس کا کہنا ہے کہ دوسری حکومتیں جب مساجد کو براہ راست فنڈز فراہم کرتی ہیں اور امام تعینات کرتی ہیں تو وہ سیکولر آئین کے باوجود ہمارے قومی معاملات میں مداخلت کی مرتکب ہو جاتی ہیں۔
فرانس کی حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی ایسا طریقہ کار ڈھونڈ رہی ہے جس کے ذریعے مساجد کو ماليات فراہم کیے جا سکیں، عطیات میں باقاعدگی لائی جا سکے، چندے اکھٹے کرنے کا نظام اور اماموں کی تربیت کو کسی دائرے میں لایا جا سکے۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس مقصد کے لیے حلال مصنوعات پر ٹیکس کے ذریعے وسائل اکھٹے کیے جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق فرانسیسی حکومت صدارتی دفتر، اور وزارت داخلہ کے ذریعے 2003 میں قائم کی جانے والی فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
مجوزہ اصلاحات کا مقصد فرانس کے اندر مساجد اور اماموں پر غیر ملکی اثر و رسوخ کا خاتمہ ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مساجد کے اماموں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل کریں جہاں وہ سیکولر ازم، معاشرتی آزایاں، نظریات اور مذاہب کی تاریخ اور عمرانيات کے علوم بھی پڑھیں۔ ان تجاویز میں ایک چیف امام کا انتخاب بھی شامل ہے جیسا کہ یہودیوں کے معاملے میں چیف ربائی کا عہدہ موجود ہے۔
فرانس میں رائے عامہ کے جائزوں سے متعلق انسٹی ٹیوٹ کے ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 56 فی صد رائے دہندگان کا خیال ہے فرانسیسی معاشرہ اور اسلام ایک ساتھ چل سکتے ہیں جب کہ 2016 کے سروے میں یہ شرح 43 فی صد تھی۔

VOA بشکریہa {display:none;}