فاٹا کو تعلیمی ومعاشی پیکیج :این ایف سی میں 3فیصد حصہ دیا جائے،سراج الحق

فاٹا کو تعلیمی ومعاشی پیکیج :این ایف سی میں 3فیصد حصہ دیا جائے،سراج الحق

April 16, 2018 - 22:50
Posted in:

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ قبائل کو این ایف سی سے 3 فیصدحصہ دیا جائے اور فاٹا میں تعلیمی و معاشی پیکج کے وعدے پورے کیے جائیں ،عدالت عظمیٰ اورعدالت عالیہ کے فاٹا تک دائرہ اختیار کا سینیٹ سے پاس ہونے والا بل بارش کا پہلا قطرہ ہے جس سے قبائلی عوام کے حقوق کی بحالی کا راستہ کھلا ہے، ریاست کو مستحکم کرنا ہے تو بے لاگ احتساب کرنا پڑے گا،پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے کے لیے سیاست کو کرپشن سے پاک کرناہوگا ، غاروں میں بیٹھے مسلح دہشت گردوں اور ایوانوں میں موجود سیاسی دہشت گردو ں میں کوئی فرق نہیں، الیکشن کے بارے میں لوگ شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں ۔ بروقت الیکشن وقت کا تقاضا اور ملکی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے باجوڑ ایجنسی میں قبائلی سرداروں اور عمائدین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے کے لیے سیاست کو کرپشن سے پاک کرناہوگا ۔ صرف ایک نوازشریف کے نااہل ہونے سے کرپشن کا ناسور ختم نہیں ہو گا، اس کے لیے پاناما لیکس کے دیگر 436 کرداروں ،بینکوں سے قرضے لے کر معاف کرانے اور دبئی اور لندن لیکس والوں ، سب کو احتساب کے کٹہرے میں لانا اور عوام کو اعتماد دینا پڑے گا ۔ ریاست کو مستحکم کرنا ہے تو بے لاگ احتساب کرنا پڑے گا۔ نیب کے پاس کرپشن کے 150 میگا اسکینڈلز ہیں انہیں کیوں نہیں کھولا جارہا۔ پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ سیاستدان ہو یا غیر سیاستدان ، سب کا احتساب کیا جائے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام نے جن لوگوں کو مینڈیٹ دیا ، انہوں نے عوام کو دھوکا دیا اور عوام کے ٹیکسوں اور خون پسینے کی کمائی کو لوٹ کرباہر منتقل کردیا ۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک موجود پاکستانی سالانہ 20 ارب ڈالر کما کر ملک میں بھیجتے ہیں اور یہاں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے کرپٹ حکمران محنت و مشقت سے کمائی دولت چوری کر کے باہر منتقل کر دیتے ہیں ۔ ملک پر اس وقت 80 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہے جبکہ ہمارے 500 ارب ڈالر سوئس اور دبئی کے بینکوں میں پڑے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ عدالت عظمیٰ کو اس پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے باہر پڑی قومی دولت کو واپس لانے کا ایک میکنزم بناناچاہیے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ الیکشن کے بارے میں لوگ شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں ۔ بروقت الیکشن وقت کا تقاضا اور ملکی استحکام کے لیے ضروری ہے ۔ ہمارا المیہ ہے کہ 1947 ء سے آج تک ملک پر کرپٹ اشرافیہ قابض ہے اور ان کی پانچویں نسل سیاست اور اداروں پر مسلط ہے ۔ انہوں نے کہاکہ غاروں میں بیٹھے مسلح دہشت گردوں اور ایوانوں میں موجود سیاسی دہشت گردو ں میں کوئی فرق نہیں ۔ اسٹیل ملز ، پی آئی اے ،او جی ڈی سی سمیت قومی ادارے تباہ حالی کا شکار ہیں ۔ قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے اور چند لٹیرے کرپشن سے محلات بنارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عدالت عظمیٰ اورعدالت عالیہ کے فاٹا تک دائرہ اختیار کا سینیٹ سے پاس ہونے والا بل بارش کا پہلا قطرہ ہے جس سے قبائلی عوام کے حقوق کی بحالی کا راستہ کھلا ہے، یہ خوش آئند پیش رفت ہے ، اس سے قبائلی عوام کو انصاف ملے گا ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ قبائل کو این ایف سی سے 3 فیصدحصہ دیا جائے اور فاٹا میں تعلیمی و معاشی پیکج کے وعدے پورے کیے جائیں
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}