فارسی زبان کی فراموشی کا خوف

فارسی زبان کی فراموشی کا خوف

September 13, 2018 - 17:58
Posted in:

افغانستان میں سنہ 1980 میں روسی جنگ کے دوران افغان آبادی کی ایک بڑی تعداد نے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کا رخ کیا اور یہاں آنے والے افغان پناہ گزین نے ال آصف سکوائر کا انتخاب کیاـ یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ مزدوری پیشہ اور دیہاڑی پر کام کرنے والے ہیں جس میں افغان خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر کام کیا۔لیکن پچھلے دورِ حکومت میں بننے والے قومی ایکشن پلان کے تحت 14 لاکھ افغان پناہ گزین کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد اس غیر یقینی صورت حال سے نمٹنے کے لیے یہاں رہنے والوں نے اپنی آبائی زبان لکھنے اور پڑھنے کو دوبارہ سے ترجیح دی۔یہ بھی پڑھیے’نصف سے زیادہ پناہ گزین بچے ہونا لمحۂ فکریہ ہے‘ پاکستان: افغان پناہ گزینوں کو مزید ایک ماہ کی مہلت’افغان طالب علم پاکستانی مدرسوں میں زیرتعلیم ہیں‘افغان پناہ گزینوں کے سکول بند ہونے کا خطرہ

قندوز، بدخشاں اور کابل سے آنے والی فارسی دان آبادی کے لیے کراچی میں رہتے ہوئے کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہے۔ ال آصف سکوائر کے کمپاؤنڈ میں موجود ایک چھوٹے سے کمرے میں بلقیس اپنے والد اور تین بچوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔ یہاں رہتے ہوئے وہ روز 50 کلو آلو چھیل کر آس پاس کے دکانوں میں صرف 100 روپے میں بیچتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فارسی سیکھنے سے کام ملنے میں مدد ملتی ہے لیکن ان کے لیے پاکستان میں رہنا بہتر ہے۔’فارسی زبان سیکھنے سے یہ ہوتا ہے کہ وہاں جانے پر کام جلدی مل جاتا ہے جس سے دیہاڑی لگ جاتی ہے اور گھر چلانے میں مشکل پیش نہیں آتی۔ یہی بھی وجہ ہے کہ ہمارے بچے اپنی مادری زبان نہ بھول جائیں اس لیے ان کو سکول سے ہی دری اور فارسی کا درس دیا جاتا ہے۔‘وہ کہتی ہیں ’لیکن میں دو ماہ پہلے قندوز گئی تھی، وہاں کچھ کام نہیں ہےـ الٹا ان لوگوں نے ہمیں کہا کہ کچھ ہے تو لے آؤ۔‘ پاکستان میں افغان پناہ گزین کب تک رہیں گے یہ تو واضح نہیں ہے لیکن ان کے لیے فارسی زبان کا فروغ اپنی قومی شناخت بچانے کا واحد حل ہےـ

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}