غزہ: فلسطینیوں کی مزید مظاہروں کی تیاری، صورتحال کشیدہ

غزہ: فلسطینیوں کی مزید مظاہروں کی تیاری، صورتحال کشیدہ

May 15, 2018 - 13:14
Posted in:

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ کی پٹی میں 58 افراد کی ہلاکت کے اگلے روز منگل کو فلسطینی علاقوں میں مزید مظاہروں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ غزہ میں سات ہفتے قبل ہنگامے شروع ہونے کے بعد سے منگل کا دن سب سے خونریز تھا۔ منگل کو اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ ہے، یہ وہ دن ہے جسے فلسطینی 'نکبہ' قرار دیتے ہیں، جس کا مطلب ہے تباہی۔ اسرائیل کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اسی بارے میںغزہ میں 55 ہلاک، ’اسرائیلی فوج نے اپنا دفاع کیا‘غزہ: اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین میں جھڑپیںمنگل کو بھی غزہ میں کشیدگی کا امکان ہے، اور کل ہلاک ہونے والے مردوں کی تدفین کی جا رہی ہے۔ پیر ہی کو امریکہ نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس متنازع منصوبے کی بہت سے ملکوں نے مخالفت کی تھی۔ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم ان کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت ہے اور وہ اس اقدام کو اسرائیل کے تمام شہر پر قبضے کی امریکی پشت پناہی سمجھتے ہیں۔ فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ 27 سو سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس نے اس واقعے کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ یہ غزہ میں 2014 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے مہلک ترین دن تھا۔ تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی فوج کے اقدامات کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ وہ غزہ کی شدت پسند تنظیم حماس کے خلاف اپنا دفاع کر رہی تھی۔ غزہ میں کل ہوا کیا؟فلسطینیوں نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران 40 ہزار کے قریب لوگ اسرائیلی سرحد پر لگے جنگلے پر 13 مقامات پر مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے پتھر اور جلتی ہوئی چیزیں پھینکیں، جب کہ اسرائیلی فوج نے اس کا جواب فائرنگ اور آنسو گیس کے شیلوں سے دیا۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ انھوں نے 'دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں پر فائرنگ کی ہے نہ کہ مظاہرین پر۔ مظاہرین کو آنسو گیس جیسے عام طریقوں سے منتشر کیا گیا۔'

اقوام متحدہ: کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید رعد الحسین نے 'اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے ہلاک ہونے والے درجنوں افراد کی موت' کی شدید مذمت کی۔ترکی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں امریکہ اور اسرائیل پر اس جارحیت کا مشترکہ الزام عائد کیا اور اپنے سفیر دونوں ممالک سے واپس بلانے کا اعلان کیا۔ترکی: کے علاوہ جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'اندھادھند اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔'انسانی حقوق کی تنظیمیں: ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ نے اسرائیل فوج کی جانب سے طاقت سے استعمال کی مذمت کی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}