غزنی میں طالبان کا حملہ، حکومتی افواج سے جھڑپیں

غزنی میں طالبان کا حملہ، حکومتی افواج سے جھڑپیں

August 10, 2018 - 10:51
Posted in:

افغانستان کے جنوبی صوبے غزنی کے دارالحکومت غزنی میں طالبان نے حملہ کیا ہے اور طالبان جنگجوؤں اور افغان سکیورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں جاری ہیں۔اس حملے طالبان اور حکومتی افواج دنوں ہی بڑی تعداد میں ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔غزنی صوبے کے ترجمان محمد عارف نوری نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے جمعرات کی شب غزنی میں چاروں جانب سے حملے کیے۔ اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیےشیعہ مسلک کی مسجد پر خودکش حملہ، 25 ہلاککابل: فضائی حملے میں عام شہری نشانہ بن گئےکابل: خودکش حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاکانھوں نے بتایا کہ یہ حملے جمعرات کو رات دیر گئے کیے اور طالبان جنگجو شہر کے مضافات میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔صوبائی ترجمان نے بتایا کہ غزنی میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی ابھی تک جاری ہے اور حکومتی افواج نے طالبان کو شہر کے مرکز سے پچھے دھکیلنے کا دعویٰ کیا ہے۔حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ شہر میں اب تک گولیاں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں جبکہ غزنی کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی ہے۔حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کئی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں لیکن انھوں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔اطلاعات ہیں کہ طالبان نے شہر کے راستوں کو بند کر دیا اور ایک عمارت میں چھپ کر پولیس ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر فائرنگ کی۔ادھر طالبان نے بھی غزنی میں کیے گئے حملے کے بارے میں تفصیلات فراہم کی ہیں اور طالبان کی جانب جاری بیان میں اس حملے میں متعدد افغان فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ جنگجو نے شہر کے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے اور چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ کچھ عرصے سے طالبان اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کرتے ہوئے شہری علاقوں میں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}