عدلیہ کو گالیا ں برداشت کر رہے ہیں،چیف جسٹس

عدلیہ کو گالیا ں برداشت کر رہے ہیں،چیف جسٹس

April 16, 2018 - 22:51
Posted in:

ْٓلاہور،اسلام آ باد(نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک+آئی این پی+صباح نیوز)لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،پاکستان مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائدوسابق وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت دیگر 16 (ن) لیگی ارکان اسمبلی کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر 15روزہ عبوری پابندی عاید کرتے ہوئے بینچ کے سربراہ پر اٹھائے گئے نواز شریف کے اعتراضات مسترد کردیے جب کہ عدالت عظمیٰ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارنے ر یمارکس دیے کہ عدالت کا اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے،کسی کی تذلیل مقصود نہیں،نااہلی کیس پر فیصلے کے بعد عدلیہ کے باہر عدلیہ مردہ بادکے نعرے لگے اورعدلیہ کو گالیاں دی گئیں، ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں،لوگ خواتین کو ڈھال کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔عدالت عظمیٰ نے پیمراکے چیئرمین کا انتخاب کرنے والی کمیٹی سے وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کو نکال دیا ۔تفصیلات کے مطابق جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وزیر اعظم،نواز شریف اور مریم نواز سمیت 16 ارکان اسمبلی کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر کی 27 متفرق درخواستوں کی سماعت کی۔عدالت نے معاملہ پیمرا کو بھجواتے ہوئے درخواستوں پر 15روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ بینچ نے فیصلے میں کہا کہ اس دوران نواز شریف سمیت دیگر افراد کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر نہ کی جائیں۔ عدالت نے پیمرا اور تمام متعلق فریقوں کو حکم دیا کہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ 15 روز میں توہین عدالت پر مبنی کوئی مواد ٹی وی چینلز پر نشرنہ ہو، عدلیہ مخالف توہین آمیز مواد کی خود سخت مانیٹرنگ کریں گے۔درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیاتھا کہ مذکورہ شخصیات پاناما کیس سمیت دیگر کیسز میں عدلیہ مخالف تقاریر کررہی ہیں اور براہ راست ججوں کو نشانا بنارہی ہیں،یہ تقاریر براہ راست نشر کی جارہی ہیں جو توہین عدالت ہے۔درخواست گزاروں نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی تھی جب کہ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ پیمرا کو کوڈ آف کنڈکٹ یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔قبل ازیں سماعت شروع ہونے سے قبل نواز شریف نے تحریری طور پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی بینچ میں شمولیت پر اعتراضات اٹھائے تاہم عدالت نے انہیں مسترد کردیا۔نواز شریف نے کہا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مجھے سنے بغیر حکم نامے میں متنازع ریمارکس لکھے،فاضل جج کے ریمارکس سے میرے دل میں خوف پیدا ہوا،بینچ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی موجودگی سے مجھے انصاف کا حصول ممکن نظر نہیں آتا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی خود کو بینچ سے علیحدہ کریں۔واضح رہے کہ نوازشریف، مریم نواز، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر(ن)لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر رکوانے کے لیے 2 درجن سے زائد درخواستیں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھیں جنہیں یکجا کرکے سماعت کے لیے فل بینچ تشکیل دیا گیا تھا ، مختلف وجوہات کی بنا پر بینچ 3 بار تحلیل ہوا جس کے بعد اب چوتھے بینچ نے سماعت کی۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ پیمراآزاد ادارہ ہونا چاہیے ، حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرناچاہتے ہیں۔ سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لیے 3ارکان کے پینل کا انتخاب کرے گا۔اس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا ۔اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ کام 3 ہفتے کے اندر ہوجائے گا۔عدالت نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کردی جس سے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کو نکال کر سیکرٹری اطلاعات کو شامل کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی، ان کے لیے کمیٹی کے لیے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2 روز قبل عدالت کے باہر نعرے لگائے گئے، جب ہم نے آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ سنایا، یہاں عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے،نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے،خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آ تے ہیں، غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے،ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں، کسی شیر کو میں نہیں جانتا۔چیف جسٹس نے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں اصل شیر۔اس دوران جسٹس شیخ عظمت سعیدنے ریمارکس دیے کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیاکی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا، اگر ہماری بات ٹھیک نہیں تو بولنا بھی بند کردیں گے، قانون سازوں کو قانون میں ترمیم کے لیے تجویز نہیں کرسکتے، پارلیمنٹ آرٹیکل 5 میں ترمیم نہ کرے تو کیا کریں؟ آرٹیکل 5 اور6 آئین کے آرٹیکل 19 سے مطابقت نہیں رکھتے۔ لگتاہے حکومت کو کوئی خوف نہیں، حکومت پر کوئی تلوار نہیں ہے لیکن یہ کام ہونا چاہیے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}