عدلیہ انتظامیہ کشیدگی، بنگلہ دیشی چیف جسٹس مستعفی

عدلیہ انتظامیہ کشیدگی، بنگلہ دیشی چیف جسٹس مستعفی

November 12, 2017 - 19:22
Posted in:

بنگلہ دیش کے صدر کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے چیف جسٹس سریندر کمار سنہا نے استعفیٰ دے دیا ہے تاہم مستعفی ہونے کی وجہ بتانے سے گریز کی ہے۔ڈھاکہ سے نامہ نگار کے مطابق جسٹس سنہا طبی وجوہات کے باعث ایک ماہ کی چھٹی پر گئے تھے اور ان کی یہ چھٹی جمعہ یعنی 11 نومبر کو ختم ہو گئی تھی۔بنگلہ دیش کے صدر کے پریس سیکریٹری نے بتایا کہ جسٹس سنہا نے اپنا استعفیٰ جمعہ کو سنگاپور میں واقع ہائی کمیشن میں پیش کیا۔متنازع ویڈیو پر بنگلہ دیش کا پاکستان سے معافی کا مطالبہبنگلہ دیش کہاں جانا چاہتا ہے؟اطلاعات کے مطابق جسٹس سنہا کو حکومت نے زبردستی چھٹی پر بھیجا تھا کیونکہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے آئین میں کی گئی 16 ویں ترمیم کو ختم کر دیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چیف جسٹس ایس کے سنہا کی جانب سے 16 ویں ترمیم کو ختم کیے جانے کے بعد حکومت نے ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔ تاہم حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس سنہا کا مستعفی ہونا آزاد عدلیہ کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔سپریم کورٹ نے 16 ترمیم کو ختم کرنے کے فیصلے میں پاکستانی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں وزیر اعظم نواز شریف کو ایک عدالتی فیصلے کے روشنی میں عہدے سے علیحدہ ہونا پڑا۔ پاکستان سپریم کورٹ کے فیصلے کو جس انداز میں مانا گیا بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے اسے قابل تحسین قرار دیا تھا۔پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالے دینے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی حکمران جماعت کے کئی سیاستدانوں نے چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

چیف جسٹس نے عدلیہ کی نگرانی کے حوالے سے کی گئی ترمیم کی سماعت اگست میں کی اور حکومت کے خلاف فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس پچھلے ماہ ایک ماہ کی چھٹی پر گئے اور اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ حکومت نے ان پر مستعفی ہونے کا دباؤ ڈالا۔صدر کے پریس سیکریٹری نے اے ایف پی کو بتایا 'چیف جسٹس کا استعفیٰ صدارتی محل کو موصول ہو گیا ہے۔' پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ ایک بار ان کا استعفیٰ مل جانے پر واپس نہیں لیا جا سکتا۔کہا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس کینیڈا میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہیں۔ ان پر گذشتہ ماہ منی لانڈرنگ اور مالی بےضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے۔ ان الزامات کے ایک روز بعد ہی وہ چھٹی پر چلے گئے اور ملک میں آزاد عدلیہ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رکن اور سابق وزیر قانون مودود احمد نے چیف جسٹس کے استعفے کو شرمناک قرار دیا۔'پہلے کبھی بھی چیف جسٹس نے استعفیٰ نہیں دیا۔ ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ۔۔۔ یہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔'یاد رہے کہ اکتوبر میں سپریم کورٹ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بدعنوانی کے الزامات کے باعث چیف جسٹس سنہا کے ساتھ دیگر جسٹس صاحبان نے بینچ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

جسٹس سنہا نے اگست میں حکومت کی جانب سے 16 ویں ترمیم کو خارج کیا تھا جس کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو جانا تھا کہ کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس صاحبان کو برطرف کر سکتی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے 2014 میں آئینی ترمیم کو ختم کر دیا۔چھٹی پر جانے سے قبل چیف جسٹس سنہا نے ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں حکومت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ عدلیہ کے آزادی کے لیے پریشان ہیں۔اس سے قبل چیف جسٹس سنہا نے زور دیا تھا کہ وہ چھٹی سے واپس آ کر دوبارہ چیف جسٹس کے طور پر کام کریں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}