عدالت عظمیٰ کا کراچی میں بھینسوں کے انجیکشن ضبط کرنے کا حکم

عدالت عظمیٰ کا کراچی میں بھینسوں کے انجیکشن ضبط کرنے کا حکم

January 13, 2018 - 23:50
Posted in:

کراچی(کورٹ رپورٹر) عدالت عظمیٰ نے کراچی بھر سے بھینسوں کو لگنے والے انجکشن ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ناظر ہائیکورٹ کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ 5 دن میں ایک بھی کمپنی سیل نہیں کرسکے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آج ہی کارروائی کرکے11 بجے تک میری رہائیش گاہ پر رپورٹ پیش کریں۔ عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پیکٹ والے دودھ سے متعلق سماعت
ہوئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پنجاب میں کروڑوں روپے لگا کر لیبس ٹھیک کرائی ہیں۔ سندھ حکومت کو خیال نہیں آیا کہ کراچی کے لوگوں کو معیاری دودھ پلائیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا آج ہی کراچی کی مارکیٹس سے پیکٹ والے دودھ کے تمام برانڈز کی پروڈکٹ اٹھائیں اور ٹیسٹ کے لیے بھیجیں۔ عدالت نے تمام نمونے پی سی ایس آئی آر بھیجنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب میں پیکٹ کے دودھ سے اب یوریا ، بال صفا پاؤڈر اور غیر معیاری اشیا کا خاتمہ ہوگیا۔ معیاری لیبس کا بتایا جائے جہاں پیکٹ والے دودھ کا معیار جانچا جاسکے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ دودھ کا معیار جانچنے کے لیے کمیشن قائم کریں گے یہ دودھ نہیں ہے یہ فراڈ ہے ، دودھ کا نعم البدل بھی نہیں ہے۔ تمام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ ڈبے پر لکھیں یہ دودھ نہیں ہے۔ عوام کے ساتھ فراڈ نہیں ہونے دیں گے۔ پنجاب میں پابندی ہے وہاں بھی گزارا ہورہا ہے نا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بریسٹ کینسر جیسے مسائل پیدا ہورہے ہیں، بچیوں کا کوئی خیال نہیں۔ عدالت نے کراچی بھر میں بھینسوں کے انجکشن ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ 5 دن میں ایک کمپنی بھی سیل نہیں کرسکے۔ عدالت نے ناظر کو مطلوبہ عملہ فراہم کرنے کا حکم بھی دیا۔ ڈیری فارمرز کے وکیل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے منظور شدہ انجکشن پر پابندی عاید کی ہے۔ پروڈکشن متاثر ہوئی ہے، پابندی ختم کی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکے لگا لگا کر بچوں کو بیمار کرنا چاہتے ہیں۔ ذرا خیال نہیں آتا بچوں کی زندگی سے کھیل رہے ہو۔ مصنوعی طریقے سے دودھ نکالنا چاہتے ہو۔ کم از کم اپنے جانوروں کا ہی خیال کرلو۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}