صفر کا ہندسہ موجودہ اندازوں سے کہیں قدیم

صفر کا ہندسہ موجودہ اندازوں سے کہیں قدیم

September 15, 2017 - 11:53
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape has-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="مخطوطہ" src="https://ichef.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/C09F/production/_97811394_e1..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurep class="story-body__introduction"کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ اپنی حالیہ شکل میں صفر کا ہندسہ موجودہ اندازوں سے کہیں پہلے ایک قدیم ہندوستانی مخطوطے میں استعمال ہوا تھا۔/ppباور کیا جاتا ہے کہ یہ بخشالی مخطوطہ تیسری یا چوتھی صدی کا ہوسکتا ہے جو کہ صفر کے پہلی بار استعمال کے بارے میں موجودہ اندازے سے کئی سو برس پہلے کی بات ہے۔/ppاس کا مطلب یہ ہے کہ آکسفرڈ میں محفوظ مخطوطے میں صفر کی علامت انڈيا کے شہر گوالیار کے مندر میں موجود علامت سے بھی قدیم ہے۔/ppآکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارکو ڈساؤٹی کا کہنا ہے کہ صفر کی تخلیق ریاضی میں ایک عظیم کامیابی تھی۔/ppبوڈلیئن لائبریریز کے رچرڈ اووینڈن کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ریاضی کی تاریخ کے لیے بہت ہی اہم ہے۔/ppقدیم ہندوستان میں نقطے یا 'ڈاٹ' کا استعمال ہوتا تھا جو بتدریج صفر کی علامت بنا اور بخشالی مخطوطے میں اسے جگہ جگہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ /pfigure class="media-landscape full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepاس سے پہلے بعض ماہرین نے کہا تھا کہ بخشالی مخطوطات آٹھویں اور 12ویں صدی کے ہیں لیکن اب کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تو اس سے کئی صدی پرانے ہیں۔/ppبوڈلیئن لائبریری کا کہنا ہے کہ یہ مخطوطات برچ کے 70 پتوں اور اس کی چھال پر مبنی ہیں اور ان میں تین مختلف ادوار کا مواد استعمال ہوا ہے۔ اس کے بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ماضی کے محققین کو اس کی صحیح تاریخ کے تعین میں کافی جد و جہد کرنی پڑی تھی۔/ppیہ مخطوطات ایک کسان کو پشاور کے قریب واقع بخشالی نامی گاؤں سے سنہ 1881 میں ملے تھے۔/ppبعد میں انھیں ہندوستان پر تحقیق کرنے والے برطانوی محقق رولف ہورنیل نے لے لیا تھا اور سنہ 1902 میں بوڈلیئن لائبریری کو سونپ دیا تھا۔/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style