صحافت کرنے والے سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کی جائے، عدالت

صحافت کرنے والے سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کی جائے، عدالت

September 23, 2017 - 18:44
Posted in:

نواب شاہ (نمائندہ جسارت) سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد کے جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس فہیم احمد صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ میں نواب شاہ کے سینئر صحافی مرغوب حسین رضوان تھیبو کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست نمبر سی پی ڈی بی نمبر 3343/16جس میں معروف قانون دان خادم حسین سومرو ایڈووکیٹ اور جلیل احمد میمن ایڈووکیٹ نے مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ محکمہ تعلیم سمیت دیگر سرکاری محکموں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی بڑی تعدادغیر قانونی طور پر صحافت کررہی ہے، صحافی کی حیثیت سے ناصرف مراعات حاصل کررہے ہیں بلکہ پریس کلبوں کے عہدوں پر بھی قابض ہیں کی سماعت کے دوران عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آرڈر میں بینظیر آباد کے کمشنر سمیت دیگر ڈویژنل کے کمشنرز کو تمام ایسے سرکاری ملازمین کی فہرستیں جمع کروانے اور سیکرٹری محکمہ انفارمیشن سندھ کو ایسے تمام سرکاری ملازمین کے پریس اور ایکریڈیشن کارڈ منسوخ کرنے کے احکامات دیے گئے تھے جن کی فہرستیں فوری پیش کی جائیں۔ فاضل عدالت نے اس موقع پر اپنے آرڈر میں آخری مہلت دیتے ہوئے تمام محکموں کو حکم دیا کہ ایسے سرکاری ملازمین کی فہرستیں فوری جمع کروائی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان تمام کے پریس کارڈ منسوخ ہوچکے ہیں

google_ad_client = "ca-pub-6828776300899524";
google_ad_slot = "0592552376";
google_ad_width = 336;
google_ad_height = 280;

جبکہ صرف کمشنر حیدرآباد ڈویژن کی جانب سے ڈویژن کے مختلف اضلاع کے 144 سرکاری ملازمین صحافیوں کی فہرست پیش کی۔ سرکاری ملازمین صحافیوں کے وکیل کے اس جملے کہ سرکاری ملازم صحافی اساتذہ پارٹ ٹائم صحافت کررہے ہیں، پر فاضل عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صحافت فل ٹائم جاب ہے، کسی سرکاری ملازم کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی اصل ڈیوٹی چھوڑ کر صحافت کرے۔ قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جیسے کوئی بھی شخص کالا کوٹ پہن کر کورٹ میں وکیل بن کر پیش نہیں ہوسکتا، اسی طرح سرکاری ملازم صحافت بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جو سرکاری ملازمین صحافت کررہے ہیں اور حکومتی مراعات و تنخواہیں بھی وصول کررہے ہیں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔ ایسے سرکاری ملازم جو پریس کلب کو استعمال کررہے ہیں اور ان کے عہدے دار بنے بیٹھے ہیں، انہیں ان کی ڈیوٹیوں پر بھیجا جائے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ ہم اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ واضح رہے کہ نواب شاہ کے علاوہ ، جامشورو ، دادو اور ٹنڈوباگو کے سینئر صحافیوں نے سرکاری ملازمین صحافیوں کے خلاف الگ الگ درخواستیں دی تھی جنہیں فاضل عدالت نے یکجا کرکے سماعت کے لیے 19 اکتوبر 2017ء کی تاریخ مقرر کردی۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}