شمالی کوریا کے اسلحہ خانے میں 'حسن کی فوج'

شمالی کوریا کے اسلحہ خانے میں 'حسن کی فوج'

February 14, 2018 - 10:20
Posted in:

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے میزائل چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کے اسلحہ خانے میں کئی دوسرے ہتھیار ہیں۔ یہ ہتھیار ان کی مشینیں نہیں ہیں بلکہ یہ ان کی خواتین سفیر ہیں جن کا کسی میزائل ہی کی طرح ذکر ہوتا ہے۔ان میں سے حال میں سب سے زیادہ سرخیوں میں رہنے والی ان کی بہن کم یو جونگ ہیں۔ کم یو جونگ نے جنوبی کوریا کے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان کے ذہن و دل پر چھا گئیں۔جب انھوں نے اپنے بھائی کے پیغام کے ساتھ جنوبی کوریا کے ایوان صدر میں قدم رکھا تو ٹی وی پر ان کے ہر انداز کو دکھایا گيا۔کم یو جونگ کے زرق برق لباس، ان کی زلفیں اور ان کے انداز کی امریکہ میں بھی گونج سنی گئی اور ٹی وی چینلوں پر پابندی کے باوجود وہ موضوع بحث رہیں۔سرمائی اولمپکس

'تمام چیئر لیڈرز بس سے نیچے آ کر پرچم کو بچانے لگيں۔ جنوبی کوریا کے لوگوں کے لیے یہ عجیب بات تھی۔ یہ فرق شمالی اور جنوبی کوریا میں ہے۔'شمالی کوریا کے امور کے ماہر ایان بریمر نے ٹویٹ کیا: 'شمالی کوریا کی چیئر لیڈرز نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔'لیکن وہ ایک مجرم ملک میں یرغمال ہیں اور یہ یہ دل کو افسردہ کرنے والی بات ہے۔'بہر حال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کی لبھانے کی قوت کی اپنی حدیں ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}