شب برات کے انتظامات قبرستانوں میں جنریٹر لگائیں جائیں گے

شب برات کے انتظامات قبرستانوں میں جنریٹر لگائیں جائیں گے

April 16, 2018 - 20:56
Posted in:

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر کی ہدایت پربلدیہ عظمیٰ کراچی شب برأت سے قبل قبرستانوں میں زائرین کی سہولت کے لیے ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے صفائی ستھرائی، بجلی اور پانی کی فراہمی کے لیے خصوصی انتظامات کرے گی جبکہ قبرستانوں کے اطراف تجاوزات کے خاتمے اور جراثیم کش اسپرے کا بھی انتظام کیا جائے گا، قبرستانوں کے اطراف ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کی رہنمائی کے لیے سٹی وارڈنز تعینات کیے جائیں گے، گرم موسم کی وجہ سے زائرین کو فوری طبی امداد مہیا کرنے کے لیے مکمل سہولیات سے آراستہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی تیار حالت میں بڑے قبرستانوں کے باہر موجود رہیں گی، کے ایم سی کے 24 قبرستانوں میں 40 جنریٹرزاور 1160 اسٹارچ لائٹس کی تنصیب کے علاوہ قبرستانوں کے باہر پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کیمپس لگائے جائیں گے، مجموعی طور پر 192 کے ایم سی ورکرقبرستانوں میں خدمات انجام دیں گے، قبرستانوں میں موجود جھاڑیوں کی
صفائی کے لیے 50 افراد پر مشتمل عملہ تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ مرکزی دروازے سے لے کر دیگر داخلی راستوں کو صاف اور کشادہ کیا جاسکے، یہ بات شب برأت کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں بتائی گئی جس میں چیئرمین بلدیہ کورنگی سید نیر رضا، وائس چیئرمین بلدیہ شرقی عبدالرؤف، میونسپل کمشنر کے ایم سی ڈاکٹر اصغر عباس، چیئرمین ای اینڈ ایم کمیٹی خالد اجمیری، چیئرمین فائربریگیڈ کمیٹی امان خان آفریدی، چیئرپرسن میڈیا مینجمنٹ کمیٹی صبحین غوری، چیئرپرسن میڈیکل کمیٹی ناہید فاطمہ، میونسپل کمشنر غربی اشفاق ملاح، میونسپل کمشنر جنوبی برکت اللہ، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز شہاب انور، ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز نعمان ارشد اور دیگر افسران بھی موجود تھے، اجلاس کے دوران شہر کے مختلف اضلاع میں موجود قبرستانوں کی صورتحال اور وہاں زائرین کی سہولت کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی نے ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے نمائندوں اور کے ایم سی افسران پر زور دیا کہ شب برأت کے موقع پر اپنے عزیز و اقارب کی قبروں پر فاتحہ کے لیے آنے والے شہریوں کو قبرستانوں میں کسی بھی قسم کی دشواری سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے جائیں، انہوں نے کہا کہ شب برأت عبادتوں کی رات ہے لہٰذا ہمیں کم از کم اس بڑی رات کو قبرستان جانے والے شہریوں کی سہولت کا خاص خیال رکھنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ کراچی کے 80 فیصد قبرستان ضلع غربی میں واقع ہیں اس لیے ضلع غربی کی انتظامیہ کو اس موقع پر فعال کردار ادا کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے اسٹینڈ بائی جنریٹرز سمیت دیگر انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ساتھ مکمل اشتراک عمل یقینی بنائے گی اور کسی بھی رکاوٹ یا مسائل کی صورت میں فوری اقدامات کرکے شہریوں کو سہولت پہنچائیں گے، انہوں نے کہا کہ قبرستانوں کے اطراف سیوریج کی لائنوں سے رسائی کو روکنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں تاکہ قبرستان میں سیوریج کا پانی نہ جائے اور قبروں کی بے حرمتی نہ ہو، شدید گرمی کے پیش نظر ہیٹ اسٹروک کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کے ایم سی کی ایمبولینس میں تمام ضروری ادویات اور عملہ موجود رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد مہیا کی جاسکے، اجلاس کے دوران شہر کے 24قبرستانوں کی فہرست بھی پیش کی گئی جہاں بلدیہ عظمیٰ کراچی جنریٹر اور دیگر سہولیات مہیا کرے گی، ان میں سخی حسن قبرستان، محمد شاہ قبرستان، پاپوش نگر قبرستان، لیاقت آباد سٹی ون ایریا قبرستان، عظیم پورہ قبرستان، کورنگی نمبر 6 قبرستان، سعود آباد قبرستان، محمود آباد قبرستان، میوہ شاہ قبرستان، مواچھ گوٹھ قبرستان،النور قبرستان،عیسیٰ نگری قبرستان، پی ای سی ایچ ایس قبرستان، کھجی گراؤنڈ قبرستان،ماڈل کالونی قبرستان،کالونی گیٹ قبرستان،خاموش کالونی قبرستان، صدیق آباد قبرستان،یاسین آباد قبرستان،چکرا گوٹھ قبرستان، الفتح اورنگی قبرستان،تھورانی گوٹھ قبرستان،سلیم آباد قبرستان شامل ہیں جبکہ دیگر قبرستانوں میں بھی بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ضلعی انتظامیہ مل کر زائرین کی سہولت کے لیے انتظامات کریں گی۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}