شاہ زیب قتل ‘ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم‘ ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

شاہ زیب قتل ‘ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم‘ ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

January 13, 2018 - 23:50
Posted in:

کراچی(اسٹاف ر پورٹر)چیف جسٹس پاکستان نے شاہ زیب قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سول سوسائٹی کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزائیں کالعدم قرار دینے اور کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم
کیے جانے کے بعد سیشن کورٹ نے شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔سول سوسائٹی نے کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں ملزمان کی رہائی کو عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں چیلنج کیا تھا۔چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے شاہ زیب قتل کیس کی اپیل 6 جنوری کو اسلام آباد طلب کی جس کے بعد ہفتے کو اپیل سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سول سوسائٹی کی اپیل سنی۔کیس میں سول سوسائٹی کی جانب سے فیصل صدیقی نے کیس کی پیروی کی جب کہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کی پیروی لطیف کھوسہ نے کی۔ملزم سراج تالپور اور سجاد تالپور کی جانب سے محمود قریشی جب کہ ملزم غلام مرتضیٰ لاشاری کی طرف سے ڈاکٹر بابر اعوان پیش ہوئے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد سول سوسائٹی کی اپیل منظور کرلی۔ سماعت کے دوران سول سوسائٹی کے وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون اور عدالت عظمیٰ کے احکامات کے خلاف ہے،انسداد دہشت گردی کی عدالت نے واقعے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا تھا،سندھ ہائی کورٹ نے اس کے برخلاف فیصلہ دیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے واقعے کو ذاتی جھگڑا قرار دیا اور اہم قانونی نکات کو نظر انداز کیا۔فیصل صدیقی نے کہا کہ ٹرائل کے دوران ہی مقدمے کی نوعیت طے ہوچکی تھی اور فیصلہ آگیا تھا۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ کوئی عام جھگڑا نہیں تھا، عدالت نے قرار دیا تھا کہ واقعے سے سوسائٹی میں خوف پھیلا اور سندھ ہائی کورٹ واقعے کو دہشت گردی قرار دے چکی تھی۔شاہ رخ جتوئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ فریقین کے مابین صلح ہوچکی ہے اب مزید سماعت کی ضرورت نہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے آپ پریشان نہ ہوں۔بعد ازاں چیف جسٹس نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت سراج تالپور، سجاد تالپور اور مرتضیٰ لاشاری کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا۔ جسٹس ثاقب نثار نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کو تمام ائرپورٹس کو ہدایت نامہ بھیجنے کا حکم دیا۔اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ نے کیس کے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے۔خیال رہے کہ20 سالہ نوجوان شاہ زیب خان کو دسمبر 2012ء میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جون 2013 ء میں اس مقدمہ قتل کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج علی تالپور کو سزائے موت اور دیگر ملزمان بشمول گھریلو ملازم غلام مرتضٰی لاشاری اور سجاد علی تالپور کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}