شام پر حملے کا قانونی جواز کیا ہے؟

شام پر حملے کا قانونی جواز کیا ہے؟

April 15, 2018 - 09:35
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape no-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="شام پر حملہ" src="https://ichef.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/937B/production/_100855773_b..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurep class="story-body__introduction"امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا کہنا ہے کہ شام میں ان کے فضائی حملے کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف بین الاقوامی پابندی کا اطلاق، صدر بشارالاسد کے کیمیائی اسلحے کو تباہ کرنا اور شام میں عوام کے خلاف مزید کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ /ppبرطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا کہ برطانیہ ہمیشہ اپنے قومی مفاد میں عالمی قواعد و ضوابط کی پاسداری کے لیے عمل کرتا رہا ہے۔ /ppتاہم حملے کے بعد برطانوی حکومت نے جو قانونی جواز پیش کیا اس میں شام کے عوام کو مزید نقصانات سے بچانے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔/ppiاسی بارے میں/i/ppa href="/urdu/world-43765810" class="story-body__link"’/a/ppa href="/urdu/world-43754678" class="story-body__link"شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟/a/ppa href="/urdu/world-43763857" class="story-body__link"شام پر دوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہیں: صدر ٹرمپ/a/ppقانونی طور پر بین الاقوامی قانون زبردستی لاگو کرنے سے دنیا ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے پہلے کے دور میں پہنچ جائے گی۔/ppاس چارٹر میں ملکوں کو اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال کا حق دیا گیا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے اس صورت میں بھی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے اگر کسی ملک کی آبادی کو اس کی اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں تباہی کا خطرہ ہو۔ /ppاس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ بین الاقوامی سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی طاقت استعمال کی جائے۔ تاہم ایسے اقدامات کے لیے سلامتی کونسل کی تائید درکار ہے۔/ppاس بندوبست کی مدد سے ملکوں کو کسی فوری خطرے کے پیشِ نظر اپنے دفاع کی خاطر طاقت کے استعمال کا حق دینے کے ساتھ ساتھ یہ توازن بھی رکھا گیا ہے کہ طاقت کو بین الاقوامی سیاست کے آلے کے طور پر نہ برتا جا سکے۔/ppاسی لیے 1945 کے بعد سے بین الاقوامی قانون کسی حملے کا جواب دینے کے لیے کسی ملک کو سبق سکھانے کی خاطر اس پر انتقاماً بمباری نہیں کر سکتا۔ /pfigure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepسلامتی کونسل کا کام خود اپنے ہاتھ میں لے کر دعویٰ کرنا کہ یہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے، اس سے روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کی عکاسی ہوتی ہے۔ /ph2 class="story-body__sub-heading"شہری آبادی کا تحفظ/h2pدوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی شہری آبادی کو فوری خطرے سے بچانے کے لیے بھی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ /ppیہ کلیے کو 1990 کی دہائی میں تقویت ملی جب اسے صدام حسین کے ہاتھوں کردوں کو بچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد یہ لائبیریا اور سیئرالیون میں بھی استعمال ہوا۔ /ppجب 1999 میں کوسوو میں یہی کلیہ استعمال ہوا تو اس پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ /ppبرطانیہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت بار بار کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی رہی ہے اور مستقبل میں اس کے ایسا کرنے کا قوی امکان ہے۔ چونکہ سلامتی کونسل خود عمل نہیں کر سکتی، اس لیے اسے باز رکھنے کے لیے طاقت کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ /ppاس کا مزید کہنا ہے کہ کسی ملک کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رکھنا ذاتی دفاع کے زمرے میں آتا ہے کیوں کہ اگر کیمیائی ہتھیار عام استعمال ہونے لگے تو یہ سب ملکوں کے لیے خطرہ ہیں۔/pp2003 میں عراق پر حملے سے قبل برطانیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ ذاتی دفاع کے لیے کیا جا رہا ہے کیوں کہ عراق کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جو قبرص میں برطانوی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ /ppتاہم اس وقت اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ عراق ایسے کسی حملے کی تیاری کر رہا ہے، اس لیے بعد میں یہ دلیل ترک کر دی گئی۔ /ppاسی طرح حالیہ معاملے میں بھی ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ شام امریکہ، برطانیہ یا فرانس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style