سینیٹ کمیٹی کا صدر ٹرمپ کے جوہری اختیار پر سوال

سینیٹ کمیٹی کا صدر ٹرمپ کے جوہری اختیار پر سوال

November 15, 2017 - 03:07
Posted in:

40 سے زائد برسوں میں پہلی مرتبہ امریکی کانگریس صدر کے جوہری حملہ کرنے کے اختیار کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کی سماعت کو 'جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے کا اختیار' کا نام دیا گیا۔ اس پینل کے چیئرمین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر گذشتہ ماہ امریکہ کو ’جنگِ عظیم سوئم کی جانب‘ لے جانے کا الزام لگایا تھا۔یہ بھی پڑھیےپوتن مداخلت کے الزام پر ہتک محسوس کرتے ہیں: ٹرمپصدر ٹرمپ کا ایشیائی دسترخوان کیسا تھا؟ صدر ٹرمپ کا طویل ایشیائی دورہ اور اس سے جڑی مشکلات’کم مجھے کیوں بوڑھا کہتے ہیں میں نے انھیں چھوٹا اور موٹا نہیں کہا‘اگست میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینا بند نہیں کیا تو وہ شمالی کوریا پر ایسا 'غیض و غضب' ڈھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔آخری بار کانگریس نے مارچ 1976 میں اس موضوع پر چار اجلاسوں کے دوران بحث کی تھی۔ایک پریشان کن ہنسیکنیٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے منگل کو ہونے والی سماعت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’ہمیں اندیشہ ہے کہ صدر غیر مستحکم ہیں، ان کا فیصلے کرنے کا عمل بہت خیالی ہے، وہ جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں جو کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد کے برعکس ہے۔‘سینیٹرز یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اگر صدر نے جوہری حملے کا حکم دے دیا تو کیا ہوگا۔ امریکی سٹریجک کمانڈ کے سابق کمانڈر رابرٹ کیہلر کا کہنا ہے کہ ماٰضی میں اگر ان کے دور کے دوران وہ صدر کے حملہ کرنے کے احکامات ملتے تو بشرطیہ کہ وہ قانونی ہیں، وہ ان پر عمل کرتے۔کیہلر کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس حکم کی قانونی حیثیت کے بارے میں ابہام کا شکار ہوتے تو وہ اپنے مشیروں سے رابطہ کرتے۔انہوں نے بتایا کہ مخصوص حالات میں 'میں کہہ سکتا تھا کہ میں عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہوں۔'وسکونسن سے تعلق رکھنے والے ایک اور ریپبلیکن سینیٹر رون جانسن نے پوچھا 'پھر کیا ہوتا ہے؟'کیہلر نے تسلیم کیا کہ انھیں نہیں معلوم۔کمرے میں موجود لوگ ہنسنے لگتے ہیں۔ لیکن بی بی سی کی تارا میک کیلوی بھی سماعت میں موجود تھیں انھوں نے بتایا کہ وہ پریشان کن ہنسی تھی۔

@SenBobCorker کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ