سکول پر سکھ بچے سے امتیازی سلوک کا الزام ثابت

سکول پر سکھ بچے سے امتیازی سلوک کا الزام ثابت

September 20, 2017 - 14:19
Posted in:

آسٹریلیا کے ایک سکول پر روایتی پگ پہننے کی وجہ سے ایک پانچ سالہ سکھ بچے سے امتیازی سلوک برتنے کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔ میلبرن کے میلٹون کرسچین سکول کے ضوابط کے تحت سکول میں پڑھنے والے طالبعلم اپنا سر نہیں ڈھانپ سکتے۔ ’فضائیہ کے مسلمان ملازم داڑھی نہیں رکھ سکتے‘تاہم پانچ سالہ سدھاک سنگھ کے والد سگردیپ سنگھ اروڑہ نے اپنے موقف میں کہا کہ ان کے بچے کو پگڑی پہننے سے منع کرنا اس کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کے مترادف ہے۔ ٹرائبیونل نے سگردیپ سنگھ کے حق میں فیصلہ سنایا۔ سکھ مذہب کے مطابق بال نہ کٹوانا اور پٹکا پہننا مذہبی روایات کا حصہ ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سگردیپ سنگھ نے کہا کہ وہ سکول کے فیصلے سے سکتے میں آ گئے تھے۔ 'آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ملک میں ایسا ہونا بہت حیران کن تھا۔ یہاں پولیس میں کام کرنے والے سکھ لوگ بھی پگ پہنتے ہیں اور آرمی والے بھی پہنتے ہیں لیکن میرے بیٹے کے سکول والوں کو اختلاف ہے۔'

وکٹوریہ سول اینڈ ایڈمینسٹریٹو ٹرابیونل نے کہا کہ سدھاک سنگھ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔دوسری جانب سکول نے اپنے دفاع میں کہا کہ انھوں نے وکٹوریہ ریاست کے قوانین برائے امتیازی سلوک کے مطابق فیصلہ کیا لیکن ٹرائبیونل نے اس دفاع کو منظور نہیں کیا اور کہا کہ وہ قوانین 2014 میں تجدید ہونے کے باوجود ناموزوں تھے۔ ٹرائبیونل نے مزید کہا کہ میلٹون سکول ایک کرسچیئن سکول ہے لیکن وہاں کسی بھی مذہب کے بچے داخلہ لے سکتے ہیں اور وہاں پڑھنے والوں میں پچاس فیصد سے زیادہ خود کو مسیحی شمار نہیں کرتے۔ سگردیپ سنگھ نے اس فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ 'ہم پورے آسٹریلیا میں موجود سکھ کمیونٹی کے جانب سے اس فیصلے کی تائید اور تعریف کرتے ہیں۔'سگردیپ سنگھ اور ان کی اہلیہ بہت جلد سکول کی انتظامیہ سے ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ سدھک سنگھ کے سکول میں اگلے سال داخلے میں بات کی جائے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}