سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں خالد لطیف پر 5 سال کی پابندی

سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں خالد لطیف پر 5 سال کی پابندی

September 20, 2017 - 13:34
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape has-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="خالد لطیف" src="https://ichef.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/14F59/production/_95994858_g..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurep class="story-body__introduction"پاکستانی کرکٹر خالد لطیف پر پاکستان سپر لیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے پر 5 سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔/ppخالد لطیف پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔/ppپاکستان کرکٹ بورڈ کے تین رکنی ٹریبونل نے بدھ کے روز پابندی سے متعلق مختصر فیصلے کا اعلان کیا ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔/ppپی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ خالد لطیف کو معطلی کی پوری سزا کاٹنا ہو گی۔ /pp٭ a href="/urdu/sport-41209200" class="story-body__link"’شرجیل جانتے تھے کہ وہ کس سے ملنے جا رہے ہیں‘/a/pp٭ a href="/urdu/sport-39869292" class="story-body__link"’خالد لطیف کے خلاف اتنے ثبوت ہیں کہ بچنا مشکل ‘/a/pp٭ a href="/urdu/sport-39801418" class="story-body__link"خالد لطیف کی ٹریبونل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد/a/ppخالد لطیف پر پابندی کا اطلاق دس فروری 2017 سے ہوگا جس روز انھیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آنے پر معطل کیا تھا۔/ppیاد رہے کہ اسی سکینڈل میں ملوث ایک اور کرکٹر شرجیل خان پر گذشتہ ماہ پانچ سالہ پابندی عائد کی جا چکی ہے جن میں ڈھائی سال معطلی کی سزا کے ہیں۔/ppخالد لطیف اور شرجیل خان پر الزام تھا کہ انھوں نے اس سال پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے قبل مبینہ طور پر ایک بک میکر یوسف انور سے ملاقات کی تھی جس میں سپاٹ فکسنگ سے متلعق معاملات طے کیے گئے تھے اور جن پر پاکستان سپر لیگ کے پہلے میچ میں مبینہ طور پر عملدرآمد بھی ہواتھا۔/ppیہ دونوں کرکٹرز اسلام آباد یونائٹڈ کی نمائندگی کر رہے تھے۔/ppپاکستان کرکٹ بورڈ نے خالد لطیف پر پی سی بی کے انٹی کرپشن ضابطۂ اخلاق کی چھ شقوں کی خلاف ورزی پر مبنی فرد جرم عائد کی تھی۔ شرجیل خان پر پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔/ppپاکستان کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث کرکٹرز کے خلاف کارروائی کے لیے اس سال مارچ میں تین رکنی ٹریبونل تشکیل دیا تھا۔/ppواضح رہے کہ اس سکینڈل کے سامنے آنے کے فوراً بعد ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ خالد لطیف اور شرجیل خان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔/ppخالد لطیف اور ان کے وکیل زیادہ تر وقت ٹریبونل کی کارروائی میں حاضر ہونے سے گریز کرتے رہے اور انھوں نے ٹریبونل کی کارروائی روکنے سے متعلق عدالت سے بھی رجوع کیا لیکن ان کی اس سلسلے میں دائر تمام درخواستیں عدالت نے مسترد کر دیں جس کے بعد خالد لطیف کو اپنا جواب ٹریبونل میں جمع کرانا پڑا۔/pfigure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepخالد لطیف پر عائد پابندی کے بعد اب سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور ملوث کرکٹرز شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کا معاملہ زیرسماعت ہے جبکہ اسلام آباد یونائٹڈ کے فاسٹ بولر محمد عرفان اپنی چھ ماہ کی پابندی کی سزا مکمل کرچکے ہیں۔/ppانہیں یہ سزا بک میکر کی جانب سے رابطہ کیے جانے کی اطلاع کرکٹ بورڈ کو بروقت نہ دینے پر دی گئی تھی۔/pp31 سالہ خالد لطیف نے پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک نصف سنچری کی مدد سے 147 رنز بنائے ہیں۔/ppانھوں نے 13 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بھی کھیلے ہیں جن میں انھوں نے ایک نصف سنچری کی مدد سے 237 رنز سکور کیے ہیں۔/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style