سنی لیونی کا کنڈوم کا اشتہار واپس

سنی لیونی کا کنڈوم کا اشتہار واپس

September 21, 2017 - 16:13
Posted in:

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں لوگ ہندوؤں کے تہوار 'نو راتری' کے موقع پر کنڈوم کے معروف برانڈ 'مینفورس' کے ایک نئے اشتہار سے ناراض ہیں۔ نو راتری کا تہوار جمعرات سے نو روز کے لیے شروع ہوگیا ہے۔ اس موقع پر ریاست کے کئی شہروں میں اشتہارات کے لیے بڑے بل بورڈز نصب کیے گئے ہیں۔ اس اشتہار میں اداکارہ سنی لیونی لوگوں سے کہہ رہی ہیں کہ 'اس بار نو راتری کھیلیں لیکن پیار سے۔‘سنی لیونی نے گوشت کھانا کیوں چھوڑا؟’سنی لیونی پر پیسے نہ لٹاؤ بھائی‘

سنی لیونی کے اس اشتہار سے بہت سے لوگ برہم ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کنڈوم بنانے والی کمپنی نے 'اپنے سامان کو فروخت کرنے کے لیے بہت ہی گھٹیا قدم اٹھایا ہے۔‘ سوشل میڈیا پر بھی بہت سے لوگوں نے اپنے رد عمل میں اسے 'قابل اعتراض اشتہار' قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں کنفڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (سی اے آئی ٹی) نے حکومت سے شکایت کی ہے اور اس اشتہار پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سی اے آئی ٹی کے سیکرٹری جنرل کھنڈیلوال نے اس سلسلے میں بی بی سی سے بات چيت کرتے ہوئے کہا: 'نو راتری ایک مقدس تہوار ہے جو خواتین کی طاقت اور ان کی خود مختاری کی علامت ہے اور اس تہوار کے ساتھ کنڈوم کو جوڑنا بہت ہی قابل اعتراض بات ہے۔'اشتہار کے خلاف شکایات کے بعد پولیس نے سورت اور وڈودرا جیسے شہروں میں درجنوں بل بورڈز کو ہٹا دیا ہے۔

لیکن کھنڈیلوال کا مطالبہ ہے کہ حکومت کنڈوم بنانے والی کمپنی اور اداکارہ سنی لیونی کے خلاف کارروائی کرے تاکہ 'جو لوگ اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں ان کے لیے یہ ایک مثال ثابت ہو۔'کنڈوم بنانے والی کمپنی مینفورس نے اس اشتہار سے متعلق اپنے ایک بیان میں ٹوئٹر پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔کمپنی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے 'اس اشتہار کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا اور ہم فوری طور پر اسے واپس لیتے ہیں۔ ہمیں اس واقعے پر افسوس ہے۔' اب تک سنی لیونی نے اس تنازع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کا خيال ہے کہ نو راتری کے دوران کنڈوم کا اشتہار کوئی برا خیال نہیں ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں جہاں بہت سے لوگ اس اشتہار کے مخالف ہیں وہیں کچھ لوگ اس کی حمایت کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}