سفارتی استثنیٰ کے پانچ عجیب و غریب واقعات

سفارتی استثنیٰ کے پانچ عجیب و غریب واقعات

May 15, 2018 - 11:04
Posted in:

امریکی سفارت کار کرنل جوزف امینوئل ہال کو اسلام آباد میں ایک موٹر سائیکل سوار پاکستانی نوجوان کو اپنی گاڑی سے کچل کرنے ہلاک کرنے کے واقعے میں ملوث ہونے کے باوجود ملک چھوڑنے کی اجازت دیے جانے پر بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ شاید پاکستان کی کمزوری ہے کہ امریکہ ایک بار پھر اپنے شہری کو چھڑا لے گیا۔ لیکن اصل صورتِ حال یہ ہے کہ کرنل جوزف کو ویانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنیٰ حاصل تھا جس کے باعث ان پر پاکستانی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں پیش آ چکی ہیں جہاں سفارت کار کسی اور ملک کے قوانین توڑتے ہوئے پکڑے گئے، لیکن جب ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانے لگی تو انھوں نے سفارتی استثنیٰ کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ ایسی ہی چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:1 لیبیا کے سفارت کار کی فائرنگ سے پولیس افسر کی ہلاکت1984 میں لندن میں لیبیا کے سفارت خانے کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں اس وقت لیبیا کے حکمران معمر قذافی کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ لندن میٹروپولیٹین پولیس کی 25 سالہ اہلکار ایوون فلیچر وہاں اپنے فرائض نبھا رہی تھیں کہ یکایک سفارت خانے کی کھڑکی سے فائرنگ ہوئی اور فلیچر ماری گئیں۔ پولیس نے سفارت خانے کو گھیرے میں لے لیا، لیکن سفارتی قوانین کی وجہ سے وہ اندر داخل نہیں ہو سکے، اور نہ ہی وہ اس بات کی تفتیش کر سکے کہ گولی کس نے چلائی تھی۔ 11 دن کے تعطل کے بعد بالآخر برطانیہ نے لیبیا کے کئی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا کہا اور اس کے بعد لیبیا اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے جو قذافی کی ہلاکت کے بعد کہیں جا کر بحال ہوئے۔

4 دہشت گردی کا شبہ2010 میں ایک قطری سفارت کار محمد المددی امریکی شہر واشنگٹن ڈی سی سے ڈینور جا رہے تھے کہ انھوں نے باتھ روم میں جا کر پائپ پینا شروع کر دیا۔ جب ایک فضائی میزبان نے دھواں نکلتے دیکھا تو انھوں نے المددی سے پوچھ گچھ کی، جس پر انھوں نے کہہ دیا کہ وہ اپنے جوتوں کو آگ لگانا چاہتے تھے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل 'جوتا بمبار' (shoe bomber) کا واقعہ سامنے آیا تھا جس میں ایک شخص نے اپنے جوتے کے تلے میں رکھے بم کی مدد سے جہاز میں دھماکہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے کی اطلاع ہوا باز کو دی گئی جس نے دہشت گردی کے خطرے کا پیغام بھیج دیا اور دو 16 طیاروں نے اس جہاز کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کو بھی اس واقعے کی اطلاع دی گئی۔ تاہم سفارتی استثنیٰ کے باعث المددی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جا سکی۔ 5 قونصل خانے میں جوا خانہ2006 میں سنگاپور میں سینیگال کے اعزازی کونسلر بینی کنسی نے قونصل خانے کی عمارت کے ایک خالی کمرے میں غیر قانونی طور پر کسینو کھول دیا۔ بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق اس سے انھیں لاکھوں ڈالر کی آمدن ہونے لگی۔ جب سنگاپور کی پولیس پوچھ گچھ کے لیے آئی تو بینی کنسی نے سفارتی استثنیٰ کا کارڈ کھیل دیا۔ تاہم بعد میں تحقیقات سے پتہ چلا کہ انھیں مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں کیوں کہ وہ اعزازی کونسلر تھے اور رضاکارانہ طور پر کام کر رہے تھے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}