سعودی ولی عہد اسرائیل کا دورہ کریں: اسرائیلی انٹیلیجنس وزیر

سعودی ولی عہد اسرائیل کا دورہ کریں: اسرائیلی انٹیلیجنس وزیر

December 14, 2017 - 11:39
Posted in:

اسرائیلی وزیر برائے انٹیلیجنس یسرائیل کاٹز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یسرائیل کاٹز چاہتے ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل کا دورہ کریں۔ ترجمان اریے شالیکار کے مطابق یہ بات بدھ کے روز ایلاف نامی نیوز ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے کی۔ تاہم شائع کیے جانے والے انٹرویو میں ان کی اس خواہش کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ شائع کیے جانے والے انٹرویو میں یہ بات شامل کیوں نہیں کی گئی تاہم وہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ یسرائیل کاٹز نے یہ بات کی تھی۔ واضح رہے کہ ایلاف ویب سائٹ کے مالک ایک سعودی کاروباری شخصیت ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ایسا دورہ اگر عمل میں آتا ہے تو یہ انتہائی بےمثال نوعیت کا ہوگا۔ یہ بھی پڑھیےحزب اللہ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: اسرائیلکیا محمد سلمان سعودی عرب کی سب سے طاقتور شخصیت بن چکے ہیں؟’سعودی عرب نے لبنانی وزیر اعظم کو قید کر رکھا ہے‘وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیاماضی میں اسرائیلی حکام عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی جانب اشارہ کرتے رہے ہیں اور اس بات کے بھی اشارے دیتے رہے ہیں کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان پسِ پردہ تعاون ہوتا ہے، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے حوالے سے۔ اریے شالیکار نے یسرائیل کاٹز کے حوالے سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شاہ سلمان وزیراعظم نیتن یاہو کو سرکاری طور پر ریاض دعوت آنے کی دعوت دیں اور وہ محمد بن سلمان کو اسرائیلی دورے کی دعوت دیتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کاٹز نے یہ ہاتھ اس لیے بڑھایا ہے کیونکہ وہ علاقائی امن چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیل کی فوج کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل گیڈی ائزنکوٹ نے کہا تھا کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہے کیونکہ دونوں ملک کا مشترکہ مفاد ایران کو روکنے سے وابستہ ہے۔ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بہت سے تجزیہ کاروں کے خیال میں ایران سے مشترکہ دشمنی کی وجہ سے سعودی عرب اور اسرائیل میں اشتراک پیدا ہو سکتا ہے۔سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عرب ملکوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے حزب اللہ سمیت مختلف جنگجو گروپوں کو استعمال کر رہا ہے۔ چند دنوں قبل یمن سے ریاض کے ہوائی اڈے پر راکٹ کے ناکام حملے کی ذمہ داری بھی سعودی عرب نے ایران پر عائد کی تھی اور اسے ایران کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا تھا۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات صرف اسی صورت قائم ہو سکتے ہیں کہ اسرائیل سنہ انیس سو اڑسٹھ میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں کو خالی کر دے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}