سعودی عرب میں یک دم سنیما جائز کیسے ہوگیا؟

سعودی عرب میں یک دم سنیما جائز کیسے ہوگیا؟

April 17, 2018 - 11:23
Posted in:

سعودی عرب میں 35 سال کی پابندی کے بعد ایک سینما کھلنے جا رہا ہے جس میں دکھائی جانے والی پہلی فلم بلیک پینتھر ہوگی۔ کئی دہائیوں کے پابندی کے بعد اب سینما جانا کیسے مناسب عمل ہو گیا؟سعودی عرب میں سینما کھلنا اس معاشرے میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔سعودی عرب میں برِسراقتدار آل سعود کے پاس بیسویں صدی میں سیاسی طاقت کے دو اہم ستون تھے، ایک تیل کی بے پناہ دولت اور دوسرا قدامت پسند مذہبی قوتوں کے ساتھ ایک غیر رسمی معاہدہ۔ مگر اب اکیسویں صدی میں حکومتی اخراجات اور نئی ملازمتوں کے لیے نہ تو تیل کی دولت کافی ہوگی اور شاہی خاندان کی نئی قیادت پر مذہبی عناصر کا اس قدر اثر و رسوخ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب کی آبادی قدرے جوان ہے، اس کی 32 ملین شہریوں میں سے زیادہ تر کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ شاہ سلمان کے اپنے نوجوان ترین بیٹوں میں سے ایک 32 سالہ محمد بن سلمان کو ولی عہد کا عہدہ دینا بھی جزوی طور اسی نوجوان آبادی سے تعلق قائم کرنے کے لیے دیا ہے۔ تاہم محمد بن سلمان کے سامنے مستقبل میں کئی مشکلات آ رہی ہیں۔

حکومت صرف سینما کھولنا نہیں چاہ رہی بلکہ اس سے منافع بھی کمانا چاہ رہی ہے۔ بجائے اس کے ہم سوچیں اب کیوں ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اس میں اتنی دیر کیوں لگ گئی۔مگر اس پر پابندی کبھی بھی صرف عوامی رائے کا معاملہ نہیں تھا اور اس کا مقصد بااثر مذہبی رہنمائوں کو خوش کرنا بھی تھا۔ اس غیر رسمی معاہدے میں مولوی حضرات حکمرانوں کی اطاعت سکھاتے تھے اور بدلے میں انھیں سماجی زندگی اور فیملی لا پر بہت زیادہ اثر و رسوخ حاصل تھا۔مگر اب ان مذہبی رہنمائوں کا سیاسی اور سماجی کردارر بدل رہا ہے۔ ہاں ریاسی مولوی حضرات ابھی بھی موجود ہیں جو کہ اپنے قدامت پسند خیالات کا اظہار کر رہے ہیں مگر وہ سیاسی رہنمائوں کے فیصلوں کو مان لیتے ہیں۔ 2017 میں گرینڈ مفتی نے کہا تھا کہ سینما بے شرم اور غیر اخلاقی فلمیں نشر کرتے ہوں گے اور ان سے لڑکے لڑکوں میں ملنا جلنا بڑھے گا۔ ایک وقت تھا کہ ان کے اتنی بات کردینے سے یہ معاملہ ختم ہو جاتا۔ مگر آج ایسا نہیں ہے۔ سعودی عرب کی بنیاد رکھنے جانے سے اب تک مذہبی رہنمائوں کو شہریوں کی رائے تشکیل دینے میں انتہائی اہم تصور کیا جاتا رہا ہے اور وہ حکمرانوں کی اطاعت کو یقینی بناتے رہے ہیں۔ مگر مذہبی عناصر کے اثر و رسوخ کا مطلب ہے کہ جب وہ ناراض ہوتے ہیں تو وہ معاشرے کے اہم حصوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ موجودہ سیاسی قیادت کا خیال ہے کہ بااثر مولوی حضرات سیاسی طور پر خطرناک ہوسکتے ہیں، چاہے وہ اسلامی شدت پسندی کو جنم دیں، یا زیادہ سیاسی طاقت کا مطالبہ کریں۔ حکومت اس بات کے اشارے دے رہی ہے کہ اب ان کے پاس سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ کم ہوگی۔اسی لیے ریاض میں دکھائی جانے والی اس ہفتے کی فلم یہ دکھائے گی کہ انٹرٹینمنٹ اور تفریح اہم سیاسی، اقتصادی، اور سماجی تبدیلی لا سکتی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}