سعودی عرب:’گرفتار افراد معافی کے سمجھوتے پر رضامند‘

سعودی عرب:’گرفتار افراد معافی کے سمجھوتے پر رضامند‘

December 06, 2017 - 10:53
Posted in:

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار افراد میں سے زیادہ تر نے حکام کے ساتھ معافی کے بدلے سمجھوتہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 320 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا جن میں اس وقت 159 افراد حراست میں ہیں۔بیان کے مطابق جنھوں نے الزامات سے انکار کیا یا سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔ابھی تک گرفتار کیے جانے والے افراد پر الزامات کی نوعیت واضح نہیں تاہم اٹارنی جنرل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ’بین الاقوامی اصولوں کے طریقۂ کار کو اپنایا گیا‘۔سعودی عرب: کرپشن کےخلاف کریک ڈاؤن یا دشمنیاںسعودی مہم سے چھلکتی ولی عہد کی بےرحمی دوسری جانب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان الزامات مضحکہ انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انسداد بدعنوانی مہم کا مقصد اقتدار پر گرفت مضبوط کرنا ہے۔ولی عہد نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے زیادہ تر پہلے ہی ان سے وفاداری کا اعلان کر چکے ہیں۔اس سے پہلے گذشتہ ہفتے ہی کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیے گئے شہزادہ متعب بن عبداللہ کو رہا کر دیا گیا تھا۔ایک وقت تھا کہ شہزادہ متعب کے سعودی تخت تک پہنچنے کے بارے میں توقع کی جاتی تھی تاہم اب انھیں اپنی رہائی کے لیے ایک ارب ڈالر کا معاہدہ کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ شہزادہ متعیب ان 200 اہم سیاسی اور کارروباری شخصیات میں سے ایک ہیں جنھیں چار نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں درجنوں اہم سعودی شخصیات زیرحراست ہیں۔گرفتار افراد کو دارالحکومت ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا۔یہ گرفتاریاں گذشتہ برسوں میں سعودی عرب سے آنے والی اہم ترین خبروں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب میں اس پر کھلے عام بہت کم بات ہو رہی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}