سزا نہیں دی جا رہی، دلوائی جا رہی ہے: نواز شریف

سزا نہیں دی جا رہی، دلوائی جا رہی ہے: نواز شریف

November 15, 2017 - 10:55
Posted in:

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف پیش ہوئے جہاں دو گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب ریفرنسز میں عدالتی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے استغاثہ کے دو گواہوں کو طلبی کے سمن جاری کر رکھے ہیں۔ ایس ای سی پی کی سدرہ منصور نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان قلمبند کروایا جبکہ عدالت نے ایف بی آر کے جہانگیر احمد کو بھی بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔ یہ بھی پڑھیے جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں: نواز شریفسپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکاتنیب ریفرنسز کب کیا ہوا؟نواز شریف ریفرنس: سماعت ملتوی، حاضری سے استثنیٰ نہیں’ نواز شریف حاضر ہوں‘نواز شریف پر آٹھ نومبر کو تین نیب ریفرنسز میں براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے آٹھ نومبر کو ہی نواز شریف کی جانب سے دائر ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ نواز شریف عزیز اسٹیل ملز،ایون فیلڈ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نامزد ملزم ہیں۔ ’احتساب کہیں اور سے کنٹرول‘عدالت میں پیشی کے بعد واپس جاتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'سزا دی نہیں جا رہی، دلوائی جا رہی ہے'۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاناما کیس پر دائر ریویو پٹیشن کے دوران جو زبان استعمال کی گئی ہے ایسے لگتا ہے کہ یہ زبان سیاسی مخالفین کی ہے۔ ‘نواز شریف کا کہنا تھا کہ سنہ 1999 میں طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں بھی انہیں سزا دلوائی گئی اور ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احتساب کہیں اور سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ ‘نواز شریف کی جانب سے 20 نومبر کے بعد سے ایک ہفتے کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی ہے کیونکہ انہیں اپنی اہلیہ کی عیادت کے لیے لندن جانا ہے۔ گواہوں کے بیاناتایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں استغاثہ کی گواہ سدرہ منصور نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ وہ 18 اگست 2017 کو نیب لاہور میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئیں اور نیب کی طرف سے مانگی گئی دستاویزات تفتیشی افسر کو پیش کر دیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’نیب کو دی گئی دستاویزات پر میرے دستخط اور انگوٹھے کا نشان موجود ہے اور نیب کو دی گئی دستاویزات میں کورنگ لیٹر کے ساتھ کمپنیوں کی سالانہ آڈٹ رپورٹس شامل ہیں۔‘گواہ سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا کہ نیب کو حدیبیہ پیپر ملز کی 2000سے 2005 تک کی آڈٹ رپورٹ پیش کی تھی۔/pfigure class="media-landscape full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepاس موقع پر وکیل صفائی نے سدرہ منصور کی فراہم کردہ دستاویزات پر اعتراض اٹھایا کہ یہ فوٹو کاپیاں ہیں اصل نہیں۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے مطابق فوٹو کاپیوں ہی کی ضرورت ہوتی ہیں۔/ppنواز شریف کے وکیل نے ان دستاویزات کی نقول پر کمپنیز کی مہر یا سیل موجود نہ ہونے اور کمپنیز کا کورنگ لیٹر کی عدم موجودگی پر بھی اعتراض اٹھایا۔ تاہم گواہ سدرہ منصور نے کہا یہ سب ضروری نہیں۔ /ppاس موقعے پر مریم نواز کی طرف سے دائر کی گئی ایک درخواست میں ان کی جانب سے پیشی کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔ /ppدرخواست میں کہا گیا کہ ایمرجنسی کی صورت میں مریم نواز کی عدم پیشی پر نمائندے کو پیشی کی اجازت دی جائے۔ /ppاحتساب عدالت میں کارروائی ابھی جاری ہے۔ /p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style